Main Icon

باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 937

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰى دَخَلَ نَخْلًا فَسَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ حَتّٰى خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ اللهُ تَعَالٰى قَدْ تَوَفَّاهُ. قَالَ: فَجِئْتُ أَنْظُرُ فَرَفَعَ رَأْسَهٗ فَقَالَ: «مَا لَكَ» فَذَكَرْتُ لَهٗ ذٰلِكَ . قَالَ: فَقَالَ: إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ لِي: أَلا أُبَشِّرُكَ أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ لَكَ مَنْ صَلّٰی عَلَيْكَ صَلَاةً صَلَّيْتُ عَلَيْهِ وَمَنْ سَلَّمَ عَلَيْكَ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ . رَوَاهُ أَحْمدُ

وعن عبد الرحمن بن عوف قال: خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى دخل نخلا فسجد فأطال السجود حتى خشيت أن يكون الله تعالى قد توفاه. قال: فجئت أنظر فرفع رأسه فقال: «ما لك» فذكرت له ذلك . قال: فقال: إن جبريل عليه السلام قال لي: ألا أبشرك أن الله عز وجل يقول لك من صلی عليك صلاة صليت عليه ومن سلم عليك سلمت عليه . رواه أحمد

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن عوف سے فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی الله علیہ وسلم تشریف لے گئے حتی کہ ایک باغ میں پہنچے تو بہت دراز سجدہ کیا ۱؎حتی کہ مجھے خوف ہوا کہ الله تعالٰی نے آپ کو وفات دے دی ہو فرماتے ہیں میں آکر دیکھنے لگا تو آ پ نے سر اٹھایا فرمایا کیا ہے تو میں نے یہ عرض کیا۲؎تب فرمایا کہ جبریل علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا کہ میں آپ کو یہ خوشخبری نہ دوں کہ الله آپ سے فرماتا ہے جو آپ پر درود بھیجے گا میں اس پر رحمت کروں گا اور جو آپ پر سلام کہے گا میں اس پر سلام بھیجوں گا۳؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎سجدے سے مراد یا نفل کا سجدہ ہے یا علیحدہ مستقل سجدہ۔دوسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں۔
۲
؎یعنی اپنے دل کا خدشہ،خیال رہے کہ انبیائے کرام کے لیے ایسی حالت میں وفات پاجانا اور سجدہ میں ٹھہرا رہنا گر نہ جانا باعث تعجب نہیں سلیمان علیہ السلام کی وفات نماز کے قیام میں ہوئی اور ایک لاٹھی کے سہارے آپ چھ ماہ یا ایک سال کھڑے رہے لہذا ان صحابی کے اس خیال پر کوئی اعتراض نہیں۔
۳
؎غالب یہ ہے کہ رب کی رحمت بھیجنے سے مراد دس رحمتیں ہیں،اوراس کے سلام سے مراد دس سلام جیسا کہ پچھلی احادیث میں گزرا وہ احادیث اس کی شرح ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 937