Main Icon

باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 931

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ مَعَهٗ فَلَمَّا جَلَسْتُ بَدَأْتُ بِالثَّنَاءِ عَلَی اللهِ تَعَالٰى ثُمَّ الصَّلَاةُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ دَعَوْتُ لِنَفْسِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «سَلْ تُعْطَهْ سَلْ تُعْطَهْ » . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن عبد الله بن مسعود قال: كنت أصلي والنبي صلى الله عليه وسلم وأبو بكر وعمر معه فلما جلست بدأت بالثناء علی الله تعالى ثم الصلاة علی النبي صلى الله عليه وسلم ثم دعوت لنفسي فقال النبي صلى الله عليه وسلم : «سل تعطه سل تعطه » . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد الله ابن مسعود سے کہ میں نماز پڑھ رہا تھا اور نبی صلی الله علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر آپ کے ساتھ تھے ۱؎جب میں بیٹھا تو الله کی حمد سے ابتداء کی پھر نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود شریف پھر میں نے اپنے لیے دعا کی تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا مانگ لے دیا جائے گا مانگ لے دیا جائے گا ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی یہ حضرات نماز سے فارغ ہو کر مسجد میں ہی تشریف فرما تھے میں نوافل وغیرہ پڑھ رہا تھا کیونکہ حضرت ابن مسعود علیحدہ فرض نہیں پڑھتے تھے جماعت سے پڑھتے تھے۔معلوم ہوا کہ نماز کے بعد مسجد میں کچھ ٹھہرنا سنت ہے۔
۲
؎اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ نماز کے بعد دعا مانگنا سنت ہے۔دوسرے یہ کہ دعا میں ترتیب یہ چاہیے کہ پہلے حمد الٰہی کرے پھر درود شریف پڑھے پھر اپنے گناہوں کی معافی چاہے جیسا کہ بعض روایات میں ہے پھر دعا مانگے۔ شامی نے فرمایا کہ دوران دعا میں بار بار درود شریف پڑھتا رہے درودوں سے بھری ہوئی دعااِنْ شَاءَاللّٰهُرد نہیں ہوتی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 931