Main Icon

باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 928

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ طَلْحَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ وَالْبُشْرُ فِي وَجْهِهٖ فَقَالَ: إِنَّهٗ جَاءَنِي جِبْرِيلُ فَقَالَ: إِنَّ رَبَّكَ يَقُولُ أَمَا يُرْضِيكَ يَا مُحَمَّدُ أَنْ لَا يُصَلِّيَ عَلَيْكَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِكَ إِلَّا صَلَّيْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا وَلَا يُسَلِّمُ عَلَيْكَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِكَ إِلَّا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَالدَارمِيْ

وعن أبي طلحة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم جاء ذات يوم والبشر في وجهه فقال: إنه جاءني جبريل فقال: إن ربك يقول أما يرضيك يا محمد أن لا يصلي عليك أحد من أمتك إلا صليت عليه عشرا ولا يسلم عليك أحد من أمتك إلا سلمت عليه عشرا. رواه النسائي والدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوطلحہ سے ۱؎کہ ایک دن رسول الله صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے اور خوشی آپ کے چہرے انور میں تھی فرمایا کہ میرے پاس حضرت جبرئیل آئے عرض کیا کہ آپ کا رب فرماتا ہے اے محمد کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تمہارا کوئی امتی تم پر ایک بار درود نہ بھیجے مگر میں اس پر دس رحمتیں کروں اور آپ کا کوئی امتی آپ پر سلام نہ بھیجے مگر میں اس پر دس سلام بھیجوں ۲؎(نسائی،دارمی)۳؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام سہل ابن زید ہے،حضرت انس کے سوتیلے والد ہیں،آپ کے حالات پہلے بیان ہوچکے۔
۲
؎رب کے سلام بھیجنے سے مراد یا تو بذریعہ ملائکہ اسے سلام کہلواتا ہے یا آفتوں اور مصیبتوں سے سلامت رکھنا۔حضور کویہ خوشخبری اس لیے دی گئی کہ آپ کو اپنی امت کی راحت سے بہت خوشی ہوتی ہے جیسے کہ اپنی امت کی تکلیف سے غم ہوتا ہے یہ حدیث اس آیت کی مؤیّد ہے "وَ لَسَوْفَ یُعْطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی
۳
؎اس حدیث کو ابن حبان نے اپنی صحیح میں،حاکم نے مستدرک میں، ابن ابی شیبہ نے مصنف میں اور احمد نے بھی روایت کیا،روایت حاکم کے اخیر میں ہے کہ اس پر میں نے سجدۂ شکر ادا کیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 928