- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- حدیث نمبر 5410
باب : لڑائیوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5410
فتنوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قال: "لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَقْتَتِلَ فِئَتَانِ عَظِيمَتَانِ، تَكُونُ بَيْنَهُمَا مَقْتَلَةٌ عَظِيمَةٌ، دَعَوَاهُمَا وَاحِدَةٌ، وَحَتَّى يُبْعَثَ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثِينَ،كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ، وَحَتَّى يُقْبَضَ الْعِلْمُ، وَتَكْثُرَ الزَّلَازِلُ، وَيَتَقَارَبَ الزَّمَانُ، وَیَظْهَرَ الْفِتَنُ، وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ، وَهُوَ الْقَتْلُ، وَحَتَّى يَكْثُرَ فِيكُمُ الْمَالُ فَيَفِيضَ، حَتَّى يُهِمَّ رَبَّ الْمَالِ مَنْ يَقْبَلُ صَدَقَتَهُ، وَحَتَّى يَعْرِضَهُ فَيَقُولُ الَّذِي يَعْرِضُهُ عَلَيْهِ: لَا أَرَبَ لِي بِهِ، وَحَتَّى يَتَطَاوَلَ النَّاسُ فِي الْبُنْيَانِ، وَحَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ فَيَقُولُ: يَا لَيْتَنِي مَكَانَهُ، وَحَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا، فَإِذَا طَلَعَت وَرَآهَا النَّاسُ آمَنُوا أَجْمَعُونَ، فَذلِكَ حِينَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا،وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَقَدْ نَشَرَ الرَّجُلَانِ ثَوْبَهُمَا بَيْنَهُمَا فَلَا يَتَبَايَعَانِهِ وَلَا يَطْوِيَانِهِ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَقَدِ انْصَرَفَ الرَّجُلُ بِلَبَنِ لِقْحَتِهِ فَلَا يَطْعَمُهُ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَهُوَ يُلِيطُ حَوْضَهُ فَلَا يَسْقِي فِيهِ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَقَدْ رَفَعَ أَكْلَتَهُ إِلَى فِيهِ فَلَا يَطْعَمُهَا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عن أبي هريرة أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: "لا تقوم الساعة حتى تقتتل فئتان عظيمتان، تكون بينهما مقتلة عظيمة، دعواهما واحدة، وحتى يبعث دجالون كذابون قريب من ثلاثين،كلهم يزعم أنه رسول الله، وحتى يقبض العلم، وتكثر الزلازل، ويتقارب الزمان، ویظهر الفتن، ويكثر الهرج، وهو القتل، وحتى يكثر فيكم المال فيفيض، حتى يهم رب المال من يقبل صدقته، وحتى يعرضه فيقول الذي يعرضه عليه: لا أرب لي به، وحتى يتطاول الناس في البنيان، وحتى يمر الرجل بقبر الرجل فيقول: يا ليتني مكانه، وحتى تطلع الشمس من مغربها، فإذا طلعت ورآها الناس آمنوا أجمعون، فذلك حين لا ينفع نفسا إيمانها لم تكن آمنت من قبل أو كسبت في إيمانها خيرا،ولتقومن الساعة وقد نشر الرجلان ثوبهما بينهما فلا يتبايعانه ولا يطويانه، ولتقومن الساعة وقد انصرف الرجل بلبن لقحته فلا يطعمه، ولتقومن الساعة وهو يليط حوضه فلا يسقي فيه، ولتقومن الساعة وقد رفع أكلته إلى فيه فلا يطعمها". متفق عليه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ قیامت قائم نہ ہوگی حتی کہ دو بڑی جماتیں آپس میں جنگ کریں ان کے درمیان بڑی ہی خونریزی ہوگی ان دونوں کا دعویٰ ایک ہوگا ۱∞؎اوریہاں تک کہ قریبًا تیس جھوٹے دجال اٹھیں وہ سب دعویٰ کریں کہ وہ اﷲکے رسول ہیں۲؎اور یہاں تک کہ علم سمیٹ لیا جاوے اور زلزلے بہت ہوجاویں۳؎اور زمانہ سکڑ جاوے۴؎اور فتنے ظاہر ہوجاویں اور ہرج یعنی قتل زیادہ ہوجاوے یہاں تک کہ تم میں مال زیادہ ہوجاوے ۵؎حتی کہ مال والا فکر کرے کہ اس کا صدقہ کون قبول کرے ۶؎اور یہاں تک کہ وہ مال پیش کرے تو جس پر پیش کرے وہ کہے کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ۷؎اور یہاں تک کہ لوگ عالیشان عمارتوں میں فخر کریں گے ۸؎اور یہاں تک کہ کوئی شخص کسی شخص کی قبر پر گزرے تو کہے ہائے کاش اس کی جگہ میں ہوتا ۹؎اور یہاں تک کہ سورج پچھم سے نکلے جب ادھر سے نکلے گا اور لوگ دیکھیں گے تو سارے ہی ایمان لے آویں گے ۱۰؎مگر یہ وقت ہوگا جب کسی کو اس کا ایمان نفع نہ دے جو پہلے ایمان نہ لایا ہو یا جس نے اپنے ایمان میں بھلائی نہ کمائی ۱۱∞؎اور قیامت قائم ہوجاوے گی اسی حالت میں کہ دو شخصوں نے اپنا کپڑا اپنے درمیان میں پھیلایا ہوا ہوگا تو نہ بچ سکیں گے اور نہ لپیٹ سکیں گے اور قیامت قائم ہوجاوے گی حالانکہ ایک شخص اپنی اونٹنی کا دودھ لے کر چلے گا تو اسے کھا نہ سکے گا۱۲؎اور قیامت قائم ہوجاوے گی حالانکہ کوئی اپنے حوض پر ہوگا تو اس میں پانی پلا نہ سکے گا اور قیامت قائم ہوگی حالانکہ اس نے اپنا لقمہ اپنے منہ تک اٹھایا ہوگا تو کھا نہ سکے گا۱۳؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎ان دونوں جماعتوں سے مراد حضرت امیر المؤمنین علی مرتضیٰ اور حضرت امیر معاویہ کے لشکر ہیں جن کے درمیان صفین میں بہت سخت جنگ ہوئی ، یہ دونوں جماعتیں مدعی اسلام تھیں، دونوں مسلمان تھیں حتی کہ حضرت علی نے امیر معاویہ کی جماعت کے متعلق فرمایااخواننا بغوا علینایہ ہمارے بھائی ہیں انہوں نے ہم پر بغاوت کردی ۔اس فرمان عالی میں خوارج کا بھی رد ہے جو دونوں کو کافر کہتے ہیں اور روافض کا بھی رد ہے جو حضرت امیر معاویہ کے ساتھیوں کو کافر کہتے ہیں،دونوں مؤمنین صالحین ہیں، حضرت علی حق پر ہیں ، امیر معاویہ سے غلطی ہوئی۔۲؎دجالبنا ہےدجلسے بمعنی فریب دھوکا ، دجال فریبی دھوکہ باز یعنی قریبًا تیس فریبی دھوکہ باز جھوٹے نبی ظاہر ہوں گے جیسے پنجاب میں دجال جھوٹا غلام احمد قادیانی ۔اس حدیث کی شرح ابھی کچھ پہلےعرض کردی گئی کہ ان تیس سے مراد وہ جھوٹے نبی ہیں جن کو لوگوں نے مان لیا ، ان سے فتنہ پیدا ہوگیا ورنہ جھوٹے نبی سو سے زیادہ ہو چکے ہیں۔۳؎علم سے مراد علم دین ہے،اس کا اٹھنا اس طرح ہوگا کہ علماء وفات پاتے رہیں گے اور آئندہ پیدا نہ ہونگے حتی کہ قریب قیامت حال یہ ہوگا کہ ایک شخص میراث کا مسئلہ مشرق و مغرب لیے پھرے گا کوئی بتا نہ سکے گا،زلزلے تو اب شروع ہوگئے ہیں علم دین کم ہورہا ہے اب جسے دیکھو وہ اسکول کالج کی طرف دوڑتا ہے،علم دین پڑھنے والے بھی عالم کم بنتے ہیں واعظ زیادہ ۔۴؎اس طرح کہ سال مہینہ کی طرح ،مہینہ ہفتہ کی طرح اور ہفتہ دن کی طرح گزرے گا،زمانہ سے برکت ختم ہوجاوےگی یہ تو اب بھی دیکھا جارہا ہے۔مرقات نے اس کے یہ معنی کیے کہ عیش و عشرت زیادہ ہوجاوے گی جس سے زمانہ گزرتا ہوا محسوس نہ ہوگا کہ عیش کا زمانہ جلد گزرجاتا ہے۔یہ حال حضرت عیسیٰ و مہدی کے زمانہ میں ہوگا مگر پہلے معنی زیادہ موزوں ہیں۔۵؎یعنی مسلمانوں میں فتنے پھیلیں گے اور مسلمانوں میں قتل و خون زیادہ ہونگے حتی کہ قاتل نہ کہہ سکے گا کہ میں نے قتل کیوں کیا،بات بات پر قتل ہوا کرینگے ۔۶؎یعنی مال کی زیادتی و فراوانی بہتے ہوئے پانی کی طرح ہوگی مگر برکت نہ ہوگی ،مال میں برکت الله کی رحمت ہے اور مال کی کثرت کبھی عذاب ہوجاتی ہے۔۷؎زکوۃ میں فقیر کا مالک ہوکر قبضہ کرنا ضروری ہے اور اس زمانہ میں فقیر ملیں گے نہیں اس لیے زکوۃ نکالنے میں دشواری محسوس ہوگی،یہ ابھی زمانہ نہیں آیا،غالبًا امام مہدی کی حکومت میں ایسا ہوگا۔خلافت عثمانی میں اگرچہ مال کو بہتات بہت ہوئی مگر اتنی نہیں۔یھماگریکے پیشہکے کسرہ سےہو توربکو فتح ہوگا یعنی مال والے کو غم و فکر ہی رہے گی فقیر کی تلاش میں کہ وہ بہت تلاش کرے گا مگر فقیر نہ ملےگا اور اگریکے فتحہکے پیش سے ہو توربکو پیش ہوگا یعنی ارادہ کرے گاکوشش کرےگا مالدار کوئی فقیر ملے،بہرحال یہ لفظھمسے ہے بمعنی فکر یا غم۔۸؎معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں لوگوں میں قناعت بھی ہوگی کہ امیر آدمی صاف کہہ دےگا کہ مجھے مال کی حاجت نہیں ورنہ ہوس والوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ جتنا مال ملے جہاں سے ملے لے لیتا ہے،حرام و حلال نہیں دیکھتا جیساکہ دوسری حدیث میں ہے۔۹؎یعنی ذلیل و خوار لوگ جو پہلےمحتاج تھے غنی ہوجائیں گے،شاندار مکان بنائیں گے وہاں اکڑا کرینگے۔۱۰؎یعنی فتنے بہت ہونگے حتی کہ زندہ تمنا کرینگے کہ ہم مر چکے ہوتے،مردے قبروں میں چین سے ہونگے زندے گھروں میں بے چین ہیں۔خیال رہے کہ دینی فتنوں میں موت کی تمنا کرنا بالکل جائز ہے،دنیاوی فتنوں میں موت کی تمنا کرنا ممنوع ہے جیساکہ حدیث شریف وارد ہے۔۱۱∞؎اس کی شرحان شاءاللهعلامات قیامت میں آوے گی۔قریب قیامت آفتاب کا مغرب کی طرف سے نکلنا برحق ہے،اس وقت سارے کافر ایمان قبول کرینگے مگر وہ ایمان قبول نہ ہوگا کہ ایمان بالغیب نہ رہے گا اور معتبر ہے ایمان بالغیب۔۱۲؎یعنی جو کافر یہ واقعہ دیکھ کر ایمان لائے گا اس کا ایمان قبول نہ ہوگا اور جوفاسق یہ واقعہ دیکھ کر فسق سے توبہ کرے گا تو اسکی توبہ قبول نہ ہوگی۔(مرقات)اس فرمان عالی کی اور بہت تفسیریں ہیں یہ تفسیر بہت آسان اور صاف ہے۔خیال رہے کہ اس واقعہ کے بعد ولادت بند ہوجاوے گی کسی کے بچہ پیدا نہ ہوگا،چالیس سال بعد قیامت قائم ہوجاوے گی لہذا اس فرمان پر اعتراض نہیں کہ پھر جو بچے پیدا ہونگے ان کے ایمان کی کیا سبیل ہوگی،اگر ان کا ایمان قبول نہ ہو تو اور وہ دوزخ میں جاویں تو بے قصور کیوں پکڑے گئے،اگرقبول ہو تو اس فرمان کے خلاف ہے۔۱۳؎خیال رہے کہ علامات قیامت تو بہت عرصہ پہلے سے قائم ہوجائیں گی مگر خود قیامت اچانک آوے گی اس لیے اسے ساعت کہتے ہیں یعنی گھڑی بھر میں قائم ہوجانے والی۔اچانک صور کا نفخہ ہوگا جس سے اولًا جاندار ہلاک ہونگے پھر دوسری چیز فنا پھر آسمان و زمین کے ٹکڑے اڑ جائینگے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"مَا یَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا صَیۡحَۃً وّٰحِدَۃً تَاۡخُذُہُمْ وَ ہُمْ یَخِصِّمُوۡنَ" اور فرماتاہے:"لَا تَاۡتِیۡکُمْ اِلَّا بَغْتَۃً"اس حدیث پاک کی تائید ان آیتوں سے ہورہی ہے۔۱۴؎یہ ان دونوں سے زیادہ بلیغ ہے یعنی کپڑا لپیٹنا حوض لیپنا تو بہت کام ہے کوئی شخص اٹھایا ہوا لقمہ منہ میں نہ لے سکے گا کہ قیامت آجاوے گی تو وہ قیامت ہے،آج بعض مصیبتیں آجاتی ہیں کہ انسان حیران ہوجاتا ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5410