Main Icon

باب : لڑائیوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5410

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قال: "لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَقْتَتِلَ فِئَتَانِ عَظِيمَتَانِ، تَكُونُ بَيْنَهُمَا مَقْتَلَةٌ عَظِيمَةٌ، دَعَوَاهُمَا وَاحِدَةٌ، وَحَتَّى يُبْعَثَ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثِينَ،كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ، وَحَتَّى يُقْبَضَ الْعِلْمُ، وَتَكْثُرَ الزَّلَازِلُ، وَيَتَقَارَبَ الزَّمَانُ، وَیَظْهَرَ الْفِتَنُ، وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ، وَهُوَ الْقَتْلُ، وَحَتَّى يَكْثُرَ فِيكُمُ الْمَالُ فَيَفِيضَ، حَتَّى يُهِمَّ رَبَّ الْمَالِ مَنْ يَقْبَلُ صَدَقَتَهُ، وَحَتَّى يَعْرِضَهُ فَيَقُولُ الَّذِي يَعْرِضُهُ عَلَيْهِ: لَا أَرَبَ لِي بِهِ، وَحَتَّى يَتَطَاوَلَ النَّاسُ فِي الْبُنْيَانِ، وَحَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ فَيَقُولُ: يَا لَيْتَنِي مَكَانَهُ، وَحَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا، فَإِذَا طَلَعَت وَرَآهَا النَّاسُ آمَنُوا أَجْمَعُونَ، فَذلِكَ حِينَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا،وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَقَدْ نَشَرَ الرَّجُلَانِ ثَوْبَهُمَا بَيْنَهُمَا فَلَا يَتَبَايَعَانِهِ وَلَا يَطْوِيَانِهِ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَقَدِ انْصَرَفَ الرَّجُلُ بِلَبَنِ لِقْحَتِهِ فَلَا يَطْعَمُهُ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَهُوَ يُلِيطُ حَوْضَهُ فَلَا يَسْقِي فِيهِ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَقَدْ رَفَعَ أَكْلَتَهُ إِلَى فِيهِ فَلَا يَطْعَمُهَا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن أبي هريرة أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: "لا تقوم الساعة حتى تقتتل فئتان عظيمتان، تكون بينهما مقتلة عظيمة، دعواهما واحدة، وحتى يبعث دجالون كذابون قريب من ثلاثين،كلهم يزعم أنه رسول الله، وحتى يقبض العلم، وتكثر الزلازل، ويتقارب الزمان، ویظهر الفتن، ويكثر الهرج، وهو القتل، وحتى يكثر فيكم المال فيفيض، حتى يهم رب المال من يقبل صدقته، وحتى يعرضه فيقول الذي يعرضه عليه: لا أرب لي به، وحتى يتطاول الناس في البنيان، وحتى يمر الرجل بقبر الرجل فيقول: يا ليتني مكانه، وحتى تطلع الشمس من مغربها، فإذا طلعت ورآها الناس آمنوا أجمعون، فذلك حين لا ينفع نفسا إيمانها لم تكن آمنت من قبل أو كسبت في إيمانها خيرا،ولتقومن الساعة وقد نشر الرجلان ثوبهما بينهما فلا يتبايعانه ولا يطويانه، ولتقومن الساعة وقد انصرف الرجل بلبن لقحته فلا يطعمه، ولتقومن الساعة وهو يليط حوضه فلا يسقي فيه، ولتقومن الساعة وقد رفع أكلته إلى فيه فلا يطعمها". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ قیامت قائم نہ ہوگی حتی کہ دو بڑی جماتیں آپس میں جنگ کریں ان کے درمیان بڑی ہی خونریزی ہوگی ان دونوں کا دعویٰ ایک ہوگا ۱∞؎اوریہاں تک کہ قریبًا تیس جھوٹے دجال اٹھیں وہ سب دعویٰ کریں کہ وہ اکے رسول ہیں۲؎اور یہاں تک کہ علم سمیٹ لیا جاوے اور زلزلے بہت ہوجاویں۳؎اور زمانہ سکڑ جاوے۴؎اور فتنے ظاہر ہوجاویں اور ہرج یعنی قتل زیادہ ہوجاوے یہاں تک کہ تم میں مال زیادہ ہوجاوے ۵؎حتی کہ مال والا فکر کرے کہ اس کا صدقہ کون قبول کرے ۶؎اور یہاں تک کہ وہ مال پیش کرے تو جس پر پیش کرے وہ کہے کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ۷؎اور یہاں تک کہ لوگ عالیشان عمارتوں میں فخر کریں گے ۸؎اور یہاں تک کہ کوئی شخص کسی شخص کی قبر پر گزرے تو کہے ہائے کاش اس کی جگہ میں ہوتا ۹؎اور یہاں تک کہ سورج پچھم سے نکلے جب ادھر سے نکلے گا اور لوگ دیکھیں گے تو سارے ہی ایمان لے آویں گے ۱۰؎مگر یہ وقت ہوگا جب کسی کو اس کا ایمان نفع نہ دے جو پہلے ایمان نہ لایا ہو یا جس نے اپنے ایمان میں بھلائی نہ کمائی ۱۱∞؎اور قیامت قائم ہوجاوے گی اسی حالت میں کہ دو شخصوں نے اپنا کپڑا اپنے درمیان میں پھیلایا ہوا ہوگا تو نہ بچ سکیں گے اور نہ لپیٹ سکیں گے اور قیامت قائم ہوجاوے گی حالانکہ ایک شخص اپنی اونٹنی کا دودھ لے کر چلے گا تو اسے کھا نہ سکے گا۱۲؎اور قیامت قائم ہوجاوے گی حالانکہ کوئی اپنے حوض پر ہوگا تو اس میں پانی پلا نہ سکے گا اور قیامت قائم ہوگی حالانکہ اس نے اپنا لقمہ اپنے منہ تک اٹھایا ہوگا تو کھا نہ سکے گا۱۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ان دونوں جماعتوں سے مراد حضرت امیر المؤمنین علی مرتضیٰ اور حضرت امیر معاویہ کے لشکر ہیں جن کے درمیان صفین میں بہت سخت جنگ ہوئی ، یہ دونوں جماعتیں مدعی اسلام تھیں، دونوں مسلمان تھیں حتی کہ حضرت علی نے امیر معاویہ کی جماعت کے متعلق فرمایااخواننا بغوا علینایہ ہمارے بھائی ہیں انہوں نے ہم پر بغاوت کردی ۔اس فرمان عالی میں خوارج کا بھی رد ہے جو دونوں کو کافر کہتے ہیں اور روافض کا بھی رد ہے جو حضرت امیر معاویہ کے ساتھیوں کو کافر کہتے ہیں،دونوں مؤمنین صالحین ہیں، حضرت علی حق پر ہیں ، امیر معاویہ سے غلطی ہوئی۔۲؎دجالبنا ہےدجلسے بمعنی فریب دھوکا ، دجال فریبی دھوکہ باز یعنی قریبًا تیس فریبی دھوکہ باز جھوٹے نبی ظاہر ہوں گے جیسے پنجاب میں دجال جھوٹا غلام احمد قادیانی ۔اس حدیث کی شرح ابھی کچھ پہلےعرض کردی گئی کہ ان تیس سے مراد وہ جھوٹے نبی ہیں جن کو لوگوں نے مان لیا ، ان سے فتنہ پیدا ہوگیا ورنہ جھوٹے نبی سو سے زیادہ ہو چکے ہیں۔۳؎علم سے مراد علم دین ہے،اس کا اٹھنا اس طرح ہوگا کہ علماء وفات پاتے رہیں گے اور آئندہ پیدا نہ ہونگے حتی کہ قریب قیامت حال یہ ہوگا کہ ایک شخص میراث کا مسئلہ مشرق و مغرب لیے پھرے گا کوئی بتا نہ سکے گا،زلزلے تو اب شروع ہوگئے ہیں علم دین کم ہورہا ہے اب جسے دیکھو وہ اسکول کالج کی طرف دوڑتا ہے،علم دین پڑھنے والے بھی عالم کم بنتے ہیں واعظ زیادہ ۔۴؎اس طرح کہ سال مہینہ کی طرح ،مہینہ ہفتہ کی طرح اور ہفتہ دن کی طرح گزرے گا،زمانہ سے برکت ختم ہوجاوےگی یہ تو اب بھی دیکھا جارہا ہے۔مرقات نے اس کے یہ معنی کیے کہ عیش و عشرت زیادہ ہوجاوے گی جس سے زمانہ گزرتا ہوا محسوس نہ ہوگا کہ عیش کا زمانہ جلد گزرجاتا ہے۔یہ حال حضرت عیسیٰ و مہدی کے زمانہ میں ہوگا مگر پہلے معنی زیادہ موزوں ہیں۔۵؎یعنی مسلمانوں میں فتنے پھیلیں گے اور مسلمانوں میں قتل و خون زیادہ ہونگے حتی کہ قاتل نہ کہہ سکے گا کہ میں نے قتل کیوں کیا،بات بات پر قتل ہوا کرینگے ۔۶؎یعنی مال کی زیادتی و فراوانی بہتے ہوئے پانی کی طرح ہوگی مگر برکت نہ ہوگی ،مال میں برکت الله کی رحمت ہے اور مال کی کثرت کبھی عذاب ہوجاتی ہے۔۷؎زکوۃ میں فقیر کا مالک ہوکر قبضہ کرنا ضروری ہے اور اس زمانہ میں فقیر ملیں گے نہیں اس لیے زکوۃ نکالنے میں دشواری محسوس ہوگی،یہ ابھی زمانہ نہیں آیا،غالبًا امام مہدی کی حکومت میں ایسا ہوگا۔خلافت عثمانی میں اگرچہ مال کو بہتات بہت ہوئی مگر اتنی نہیں۔یھماگریکے پیشہکے کسرہ سےہو توربکو فتح ہوگا یعنی مال والے کو غم و فکر ہی رہے گی فقیر کی تلاش میں کہ وہ بہت تلاش کرے گا مگر فقیر نہ ملےگا اور اگریکے فتحہکے پیش سے ہو توربکو پیش ہوگا یعنی ارادہ کرے گاکوشش کرےگا مالدار کوئی فقیر ملے،بہرحال یہ لفظھمسے ہے بمعنی فکر یا غم۔۸؎معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں لوگوں میں قناعت بھی ہوگی کہ امیر آدمی صاف کہہ دےگا کہ مجھے مال کی حاجت نہیں ورنہ ہوس والوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ جتنا مال ملے جہاں سے ملے لے لیتا ہے،حرام و حلال نہیں دیکھتا جیساکہ دوسری حدیث میں ہے۔۹؎یعنی ذلیل و خوار لوگ جو پہلےمحتاج تھے غنی ہوجائیں گے،شاندار مکان بنائیں گے وہاں اکڑا کرینگے۔۱۰؎یعنی فتنے بہت ہونگے حتی کہ زندہ تمنا کرینگے کہ ہم مر چکے ہوتے،مردے قبروں میں چین سے ہونگے زندے گھروں میں بے چین ہیں۔خیال رہے کہ دینی فتنوں میں موت کی تمنا کرنا بالکل جائز ہے،دنیاوی فتنوں میں موت کی تمنا کرنا ممنوع ہے جیساکہ حدیث شریف وارد ہے۔۱۱∞؎اس کی شرحان شاءاللهعلامات قیامت میں آوے گی۔قریب قیامت آفتاب کا مغرب کی طرف سے نکلنا برحق ہے،اس وقت سارے کافر ایمان قبول کرینگے مگر وہ ایمان قبول نہ ہوگا کہ ایمان بالغیب نہ رہے گا اور معتبر ہے ایمان بالغیب۔۱۲؎یعنی جو کافر یہ واقعہ دیکھ کر ایمان لائے گا اس کا ایمان قبول نہ ہوگا اور جوفاسق یہ واقعہ دیکھ کر فسق سے توبہ کرے گا تو اسکی توبہ قبول نہ ہوگی۔(مرقات)اس فرمان عالی کی اور بہت تفسیریں ہیں یہ تفسیر بہت آسان اور صاف ہے۔خیال رہے کہ اس واقعہ کے بعد ولادت بند ہوجاوے گی کسی کے بچہ پیدا نہ ہوگا،چالیس سال بعد قیامت قائم ہوجاوے گی لہذا اس فرمان پر اعتراض نہیں کہ پھر جو بچے پیدا ہونگے ان کے ایمان کی کیا سبیل ہوگی،اگر ان کا ایمان قبول نہ ہو تو اور وہ دوزخ میں جاویں تو بے قصور کیوں پکڑے گئے،اگرقبول ہو تو اس فرمان کے خلاف ہے۔۱۳؎خیال رہے کہ علامات قیامت تو بہت عرصہ پہلے سے قائم ہوجائیں گی مگر خود قیامت اچانک آوے گی اس لیے اسے ساعت کہتے ہیں یعنی گھڑی بھر میں قائم ہوجانے والی۔اچانک صور کا نفخہ ہوگا جس سے اولًا جاندار ہلاک ہونگے پھر دوسری چیز فنا پھر آسمان و زمین کے ٹکڑے اڑ جائینگے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"مَا یَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا صَیۡحَۃً وّٰحِدَۃً تَاۡخُذُہُمْ وَ ہُمْ یَخِصِّمُوۡنَ" اور فرماتاہے:"لَا تَاۡتِیۡکُمْ اِلَّا بَغْتَۃً"اس حدیث پاک کی تائید ان آیتوں سے ہورہی ہے۔۱۴؎یہ ان دونوں سے زیادہ بلیغ ہے یعنی کپڑا لپیٹنا حوض لیپنا تو بہت کام ہے کوئی شخص اٹھایا ہوا لقمہ منہ میں نہ لے سکے گا کہ قیامت آجاوے گی تو وہ قیامت ہے،آج بعض مصیبتیں آجاتی ہیں کہ انسان حیران ہوجاتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5410