- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- حدیث نمبر 5421
باب : لڑائیوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5421
فتنوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَنْزِلَ الرُّومُ بِالأَعْمَاقِ أَوْ بِدَابِقَ، فَيَخْرُجُ إِلَيْهِمْ جَيْشٌ مِنَ الْمَدِينَةِ مِنْ خِيَارِ أَهْلِ الأَرْضِ يَوْمَئِذٍ، فَإِذَا تَصَافُّوا قَالَتِ الرُّومُ: خَلُّوا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الَّذِينَ سَبَوْا مِنَّا نُقَاتِلْهُمْ،فَيَقُولُ الْمُسْلِمُونَ: لَا وَاللَّهِ لَا نُخَلِّي بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ إِخْوَانِنَا، فَيُقَاتِلُونَهُمْ، فَيَنْهَزِمُ ثُلُثٌ لَا يَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ أَبَدًا، وَيُقْتَلُ ثُلُثُهُمْ أَفْضَلُ الشُّهَدَاءِ عِنْدَ اللَّهِ، وَيَفْتَتِحُ الثُّلُثُ لَا يُفْتَنُونَ أَبَدًا، فَيَفْتَتِحُونَ قُسْطُنْطِينيَّةَ،فَبَيْنَمَا هُمْ يَقْتَسِمُونَ الْغَنَائِمَ قَدْ عَلَّقُوا سُيُوفَهُمْ بِالزَّيْتُونِ إِذْ صَاحَ فِيهِمُ الشَّيْطَانُ: إِنَّ الْمَسِيحَ قَدْ خَلَفَكُمْ فِي أَهْلِيكُمْ، فَيَخْرُجُونَ، وَذَلِكَ بَاطِلٌ، فَإِذَا جَاؤُوا الشَّأْمَ خَرَجَ، فَبَيْنَا هُمْ يُعِدُّونَ لِلْقِتَالِ يُسَوُّونَ الصُّفُوفَ إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَيَنْزِلُ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ فَأَمَّهُمْ، فَإِذَا رَآهُ عَدُوُّ اللَّهِ ذَابَ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ، فَلَوْ تَرَكَهُ لَانْذَابَ حَتَّى يَهْلِكَ، وَلَكِنْ يَقْتُلُهُ اللَّهُ بِيَدِهِ، فَيُرِيهُمْ دَمَهُ فِي حَرْبَتِهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "لا تقوم الساعة حتى ينزل الروم بالأعماق أو بدابق، فيخرج إليهم جيش من المدينة من خيار أهل الأرض يومئذ، فإذا تصافوا قالت الروم: خلوا بيننا وبين الذين سبوا منا نقاتلهم،فيقول المسلمون: لا والله لا نخلي بينكم وبين إخواننا، فيقاتلونهم، فينهزم ثلث لا يتوب الله عليهم أبدا، ويقتل ثلثهم أفضل الشهداء عند الله، ويفتتح الثلث لا يفتنون أبدا، فيفتتحون قسطنطينية،فبينما هم يقتسمون الغنائم قد علقوا سيوفهم بالزيتون إذ صاح فيهم الشيطان: إن المسيح قد خلفكم في أهليكم، فيخرجون، وذلك باطل، فإذا جاؤوا الشأم خرج، فبينا هم يعدون للقتال يسوون الصفوف إذا أقيمت الصلاة، فينزل عيسى بن مريم فأمهم، فإذا رآه عدو الله ذاب كما يذوب الملح في الماء، فلو تركه لانذاب حتى يهلك، ولكن يقتله الله بيده، فيريهم دمه في حربته". رواه مسلم.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ نہ قائم ہوگی قیامت حتی کہ روم اعماق یا دابق میں اتریں گے ۱∞؎تو مدینہ سے ایک لشکر ان کی طرف نکلے گا جو اس دن تمام زمین والوں سے بہترین ہوگا۲؎تو جب یہ لوگ صف آراء ہوں گے تو روم کہیں گے کہ ہمارے درمیان اور ان کے درمیان جو ہم میں سے قیدکرلیے گئے ہٹ جاؤ ہم ان سے جنگ کریں گے۳؎تو مسلمان کہیں گے الله کی قسم ہم تمہارے اور اپنے بھائیوں کے درمیان علیحدگی نہ کریں گے چنانچہ مسلمان ان سے جنگ کریں گے تہائی بھاگ جائیں گے الله ان کی توبہ کبھی قبول نہ کرے گا اور تہائی قتل ہوجائیں گے وہ الله کے نزدیک افضل ترین شہید ہیں اور تہائی فتح کریں گے یہ کبھی فتنہ میں مبتلا نہ ہوں گے۴؎پھر یہ قسطنطنیہ فتح کریں گے۵؎جب کہ یہ غنیمتیں آپس میں تقسیم کرتے ہوں گے اپنی تلواریں زیتون کے درختوں سے لٹکا چکے ہوں گے۶؎ان میں شیطان چیخے گا کہ مسیح دجال تمہارے گھروں میں تمہارے پیچھے پہنچ گیا یہ لوگ نکل کھڑے ہوں گے یہ خبر غلط ہوگی۷؎پھر جب یہ لوگ شام میں آئیں گے تو دجال ظاہر ہوگا جبکہ یہ جنگ کی تیاری کررہے ہوں گے ۸؎صفیں سیدھی کرتے ہوں گے کہ نماز قائم ہوگی تو عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے ۹؎وہ ان کی امامت کریں گے۱۰؎پھر جب اﷲکا دشمن انہیں دیکھے گا تو گلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں گلتا ہے ۱۱∞؎اگر آپ اسے چھوڑ دیتے تو وہ گل جاتا حتی کہ ہلاک ہوجاتا لیکن الله اسے آپ کے ہاتھ سے ہلاک کرے گا تو آپ لوگوں کو اس کا خون اپنے نیز ے میں دکھائیں گے۔(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎اعماق مدینہ منورہ کے متصل ایک میدن کا نام ہے اور دابق ب کے فتحہ سے مدینہ پاک کا ایک بازار ہے،حلب کے قریب ایک بستی کا نام بھی دابق ہے۔بعض نے کہا وہ یہاں مراد نہیں مگر مرقات نے فرمایا کہ یہاں اعماق سے مراد دمشق کے علاقہ کی ایک بستی اور دابق حلب کے پاس کی بستی اور مدینہ سے مراد شہر دمشق ہے نہ کہ مدینہ منورہ کیونکہ اس زمانہ میں مدینہ منورہ ویران ہوگا وہاں کوئی آبادی نہ ہوگی یہ ہی صحیح ہے۔۲؎مدینہ سے مراد شہر دمشق ہے کیونکہ یہ لشکر حضرت امام مہدی کا ہوگا،یہ لشکر شام ہی سے نکلے گا،اس جنگ کے بعد دجال کا فتنہ نمودار ہوگا۔۳؎اس واقعہ سے پہلے ایک لشکر اسلام رومیوں پر جہاد کرکے ان کے بہت سے قیدی گرفتار کرچکا ہوگا،رومی اس وقت مسلمانوں سے کہیں گے کہ ہم تم سے جنگ کرنا نہیں چاہتے ان مسلمانوں کو ہمارے سامنے کر دو جو ابھی کچھ عرصہ پہلے ہم سے لڑ کر ہمارے آدمی قید کرکے لے گئے ہیں۔رومیوں کا یہ کہنا محض دھوکے اور مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کے لیے ہوگا ورنہ ان کا مقصد سب مسلمانوں سے لڑنا ہوگا۔(اشعہ و مرقات)۴؎یعنی اس جنگ میں مسلمانوں کے تین حصے ہوجائیں گے: ایک حصہ تو بزدل ہوکر بھاگ جائے گا،دوسرا حصہ جنگ میں شہید ہوجائے گا،تیسرا حصہ غازی اور فاتح ہوگا۔بھاگنے والے اول درجہ کے بدنصیب ہوں گے،شہید ہونے والے اول درجہ کے شہید،فاتحین اول درجہ کے غازی۔غرضکہ ہر جماعت اول درجہ کی ہوگی کوئی بدنصیبی میں اول درجہ،کوئی خوش نصیبی میں۔۵؎قسطنطنیہ روم کا مشہور شہر ہے جسے آج استنبول کہتے ہیں،یہ ایک بار زمانہ صحابہ کرام میں فتح ہوچکا ہے اور اب تک مسلمانوں کے قبضہ میں ہے یہ پھر مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل جاوے گا اور قریب قیامت پھر مسلمان اسے فتح کریں گے یہاں اس آخری فتح کا ذکر ہے جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔۶؎یعنی فتح پاکر نہایت امن و سکون سے ہوچکے ہوں گے اس لیے اپنی تلواریں درختوں سے لٹکا دی ہوں گی۔امن کی حالت میں غازی ہتھیار جسم سے کھولتے ہیں۔۷؎یعنی تم تو یہاں روم میں امن و امان سے ہو تمہارے وطن شام میں دجال ظاہر ہوگیا اور تمہارے گھروں میں تمہارے بیوی بچے کو بہکا رہا ہے یہ حضرات یہ خبر سنتے ہی یہ غازی دجال سے مقابلہ کرنے کی نیت سے چل پڑیں گے غنیمت وغیرہ کی طرف دھیان نہ دیں گے شام میں پہنچ کر معلوم ہوگا دجال ابھی نہیں نکلا۔۸؎غالبًا شام سے مراد بیت المقدس ہے کہ بیت المقدس اگرچہ فلسطین میں ہے مگر فلسطین شام سے بالکل قریب ہے اس لیے شام فرمایا۔(مرقات)ان کو دجال کے نکلنے کی اب درست اطلاع ہوگی انہیں بیت المقدس میں یہ خبر ملے گی۔۹؎حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول دمشق کے باب لد میں شرقی منارہ پر ہوگا ۔۱۰؎اس نماز میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام امامت فرمائیں گے آئندہ بقیہ نمازوں میں امام مہدی امامت کیا کریں گے لہذا یہ حدیث حضرت مہدی کی امامت والی حدیثوں کے خلاف نہیں کہ یہاں اس نماز کی امامت مراد ہے وہاں دوسری نمازوں کی امامت۔۱۱∞؎پہلے عیسیٰ علیہ السلام کی سانس میں مردے زندہ کرنے کی تاثیر تھی اب جو آئیں گے تو ان کی سانس میں زندہ کافروں کو مردہ کرنے کی تاثیر ہوگی،جہاں تک آپ کی نگاہ پہنچے گی وہاں تک آپ کی سانس پہنچے گی اور وہاں تک کہ کفار مریں گے۔دجال آپ کی سانس کی یا نگاہ کی تاثیر سے گھلنے لگے گا مگر آپ جلدی سے اس تک پہنچ کر قتل کریں گے اور جو لوگ اس کو خدا مان چکے تھے انہیں اس مردود کا خون دکھائیں گے کہ لو تمہارا خدا مارا گیا ہے،یہ ہے اس کا خون،دجال فلسطین یا شام میں مارا جائے گا۔بعض شارحین نے فرمایا کہ اولًا دجال بیت المقدس کا محاصرہ کیے ہوگا آپکو دیکھ کر شام کی طرف بھاگے گا،شام کے شروع اور فلسطین کے آخری کنارہ پر مارا جائے گا لہذا تمام احادیث متفق ہیں۔(مرقات)
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5421