Main Icon

باب : لڑائیوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5420

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ، فَقَالَ: "اعْدُدْ سِتًّا بَيْنَ يَدَي السَّاعَةِ: مَوْتِي، ثُمَّ فَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ،ثُمَّ مُوتَانٌ يَأْخُذُ فِيكُمْ كَقُعَاصِ الْغَنَمِ، ثُمَّ اسْتِفَاضَةُ الْمَالِ حَتَّى يُعْطَى الرَّجُلُ مِئَةَ دِينَارٍ فَيَظَلُّ سَاخِطًا، ثُمَّ فِتْنَةٌ لَا يَبْقَى بَيْتٌ مِنَ الْعَرَبِ إِلَّا دَخَلَتْهُ، ثُمَّ هُدْنَةٌ تَكُونُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ بَنِي الأَصْفَرِ فَيَغْدِرُونَ، فَيَأْتُونَكُمْ تَحْتَ ثَمَانِينَ غَايَةً، تَحْتَ كُلِّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن عوف بن مالك قال: أتيت النبي -صلى الله عليه وسلم- في غزوة تبوك وهو في قبة من أدم، فقال: "اعدد ستا بين يدي الساعة: موتي، ثم فتح بيت المقدس،ثم موتان يأخذ فيكم كقعاص الغنم، ثم استفاضة المال حتى يعطى الرجل مئة دينار فيظل ساخطا، ثم فتنة لا يبقى بيت من العرب إلا دخلته، ثم هدنة تكون بينكم وبين بني الأصفر فيغدرون، فيأتونكم تحت ثمانين غاية، تحت كل غاية اثنا عشر ألفا". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عوف ابن مالک سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں غزوہ تبوک میں نبی صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا جب حضور چمڑے کے خیمہ میں تھے ۲؎تو فرمایا کہ قیامت سے پہلے چھ چیزیں گن لو: میری موت، پھر بیت المقدس کی فتح،پھر عام موت جو تم میں بکریوں کی وبا کی طرح پھیلے گی۳؎پھر مال کا بہہ جانا حتی کہ ایک شخص کو سو دینار دیئے جائیں گے پھر بھی وہ ناراض رہے ۴؎پھر وہ فتنہ کہ عرب کا کوئی گھر نہ رہے مگر وہ اس میں داخل ہوجائے گا پھر وہ صلح جو تمہارے اور رومیوں کے درمیان ہوگی پھر وہ عہد شکنی کریں گے ۵؎تو تمہارے مقابل اسی جھنڈوں تلے آئیں گے ہر جھنڈے تلے بارہ ہزار ہوں گے ۶؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ اشجعی ہیں،مشہور صحابی ہیں،غزوہ خیبر اور اس کے بعد کے غزوات میں شریک ہوئے،فتح مکہ کے دن قبیلہ بنی اشجع کا جھنڈا آپ کے ہاتھ میں تھا،آخر میں شام میں رہے، ۷۳ھ؁ تہتر میں وفات پائی۔۲؎تبوک خیبر سے پانچ سو میل کیلومیٹر ہے۔حق یہ ہے کہ یہ شام کے علاقہ میں ہے تبوک کے بعد مان ہے اور مان کے بعد عمان پھر عمان سے قریبًا ایک سو کیلو میٹر بیت المقدس ہے۔کیلومیٹر پانچ فرلانگ کا ہوتا ہے یعنی ہمارے میل سے تین فرلانگ چھوٹا۔۳؎قعاصقاف کے پیش سے بکریوں کی وبائی بیماری جس سے بکری بہت جلدی مرجاتی ہے،یہ واقعہ بھی عہد فاروقی میں ہوچکا کہ لشکر اسلام بیت المقدس کے قریب عمواس بستی میں تھا وہاں طاعون پھیلا جس سے تین دن میں ستر ہزار آدمی فوت ہوگئے،اس وبا کا نام طاعون عمواس ہے یہ اسلام میں پہلا طاعون ہے۔(اشعہ،مرقات)بعض محدثین نے فرمایا کہ یہ طاعون عمواس میں پھیلا مگرلشکر اسلام جابیا میں تھا عمواص کے قریب عمواس میں اتنے لوگ مرے نہ کہ لشکر میں۔۴؎یہ زیادتی مال خلافت عثمانی میں ہوچکی،اس سے متصل ہی میں شہادت عثمان اور بعد کے فتنے جو سارے عرب میں پھیل گئے چنانچہ ارشاد ہواثم فتنۃالخ۔۵؎بنی اصفر رومیوں کو کہتے ہیں جو روم ابن عیصو ابن اسحاق علیہ السلام کی اولاد ہیں،چونکہ روم زرد رنگ مائل بہ سفیدی تھے اس لیے انہیں اصفر کہتے تھے اور ان کی اولاد کو بنی اصفر۔۶؎لشکر کی کل تعداد نوے لاکھ ساٹھ ہزار ہوئی عہد فاروقی میں جنگ یرموک میں عیسائی سات لاکھ تھے مسلمان چالیس ہزار مگر یہاں وہ جنگ مراد نہیں یہ جنگ تو شہادت عثمان کے بعد ہے جیساکہثمسے معلوم ہورہا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5420