- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- حدیث نمبر 5422
باب : لڑائیوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5422
فتنوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: "إِنَّ الساعةَ لَا تقومُ حَتَّى لَا يُقْسَمَ ميراثٌ وَلَا يُفْرَحَ بِغَنِيمَةٍ"، ثُمَّ قَالَ: "عَدُوٌّ يَجْمَعُونَ لِأَهْلِ الشَّامِ وَيَجْمَعُ لَهُمْ أَهْلُ الإِسْلَامِ -يَعْنِي الرُّومَ-، فَيَتَشَرَّطُ الْمُسْلِمُونَ شُرْطَةً لِلْمَوْتِ لَا تَرْجِعُ إِلَّا غَالِبَةً، فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يَحْحِزَ بَيْنَهُمُ اللَّيْلُ، فَيَفِيءُ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ، وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ، ثُمَّ يَتَشَرَّطُ الْمُسْلِمُونَ شُرْطَةً لِلْمَوْتِ لَا تَرْجِعُ إِلَّا غَالِبَةً، فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يَحْجِزَ بَيْنَهُمُ اللَّيْلُ، فَيَفِيءُ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ، وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ، ثُمَّ يَتَشَرَّطُ الْمُسْلِمُونَ شُرْطَةً لِلْمَوْتِ لَا تَرْجِعُ إِلَّا غَالِبَةً، فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يُمْسُوا، فَيَفِيءُ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ، وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الرَّابعِ نَهَدَ إِلَيْهِمْ بَقِيَّةُ أَهْلِ الإِسْلَامِ، فَيَجْعَلُ اللَّهُ الدَبَرَةَ عَلَيْهِمْ، فَيَقْتَتِلُونَ مَقْتَلَةً لَمْ يُرَ مِثْلُهَا، حَتَّى إِنَّ الطَّائِرَ لَيَمُرُّ بِجَنْبَاتِهِمْ فَمَا يُخَلِّفُهُمْ حَتَّى يَخِرَّ مَيِّتًا،فَيُتَعَادُّ بَنُو الأَبِ كَانُوا مِئَةً فَلَا يَجدُونَهُ بَقِيَ مِنْهُمْ إِلَّا الرَّجُلُ الْوَاحِدُ، فَبِأَيِّ غَنِيمَةٍ يُفْرَحُ، أَوْ أَيُّ مِيرَاثٍ يُقْسَمُ؟ فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ سَمِعُوا بِبَأْسٍ هُوَ أَكْبَرُ مِنْ ذَلِكَ، فَجَاءَهُمُ الصَّرِيخُ أَنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَلَفَهُمْ فِي ذَرَارِيِّهِمْ، فَيَرْفُضُونَ مَا فِي أَيْدِيهِمْ وَيُقْبِلُونَ، فَيَبْعَثُونَ عَشْرَ فَوَارِسَ طَلِيعَةً"، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنِّي لأَعْرِفُ أَسْمَاءَهُمْ وَأَسْمَاءَ آبَائِهِمْ، وَأَلْوَانَ خُيُولِهِمْ، هُمْ خَيْرُ فَوَارِسَ -أَوْ مِنْ خَيْرِ فَوَارِسَ- عَلَى ظَهْرِ الأَرْض يَوْمئِذٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
وعن عبد الله بن مسعود قال: "إن الساعة لا تقوم حتى لا يقسم ميراث ولا يفرح بغنيمة"، ثم قال: "عدو يجمعون لأهل الشام ويجمع لهم أهل الإسلام -يعني الروم-، فيتشرط المسلمون شرطة للموت لا ترجع إلا غالبة، فيقتتلون حتى يححز بينهم الليل، فيفيء هؤلاء وهؤلاء كل غير غالب، وتفنى الشرطة، ثم يتشرط المسلمون شرطة للموت لا ترجع إلا غالبة، فيقتتلون حتى يحجز بينهم الليل، فيفيء هؤلاء وهؤلاء كل غير غالب، وتفنى الشرطة، ثم يتشرط المسلمون شرطة للموت لا ترجع إلا غالبة، فيقتتلون حتى يمسوا، فيفيء هؤلاء وهؤلاء كل غير غالب، وتفنى الشرطة، فإذا كان يوم الرابع نهد إليهم بقية أهل الإسلام، فيجعل الله الدبرة عليهم، فيقتتلون مقتلة لم ير مثلها، حتى إن الطائر ليمر بجنباتهم فما يخلفهم حتى يخر ميتا،فيتعاد بنو الأب كانوا مئة فلا يجدونه بقي منهم إلا الرجل الواحد، فبأي غنيمة يفرح، أو أي ميراث يقسم؟ فبينا هم كذلك إذ سمعوا ببأس هو أكبر من ذلك، فجاءهم الصريخ أن الدجال قد خلفهم في ذراريهم، فيرفضون ما في أيديهم ويقبلون، فيبعثون عشر فوارس طليعة"، قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إني لأعرف أسماءهم وأسماء آبائهم، وألوان خيولهم، هم خير فوارس -أو من خير فوارس- على ظهر الأرض يومئذ". رواه مسلم.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضر ت عبداﷲابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ قیامت قائم نہ ہوگی حتی کہ میراث بانٹی نہ جائے ۱∞؎اور غنیمت سے خوشی نہ منائی جائے ۲؎پھر فرمایا کہ قوی دشمن جمع ہوں گے شام والوں کے مقابل اور انکے مقابلہ میں مسلمان جمع ہوں گے یعنی رومیوں کے مقابل۳؎تو مسلمان ایک دستہ منتخب کریں گے موت کے لیے نہ غالب ہوئے نہ لوٹیں گے۴؎پس سخت جنگ کریں گے حتی کہ ان کے درمیان رات آڑ ہوجائے گی تو یہ بھی لوٹ جائیں گے اور وہ بھی کوئی غالب نہ ہوگا۵؎اور یہ دستہ فنا ہو جاوے گا ۶؎پھرمسلمان موت کی شرط لگائیں گے کہ بغیر غالب ہوئے نہ لوٹیں گے۷؎تو عظیم جنگ کریں گے حتی کہ ان کے درمیان رات آڑے آجاوے گی تو یہ اور راہ لوٹ جائیں گے کوئی غالب نہ ہوگا اور دستہ فنا ہوجاوے گا مگر پھر مسلمان موت کی شرط لگائیں گے کہ بغیر غالب ہوئے نہ لوٹیں گے تو عظیم جنگ کریں گے حتی کہ شام ہوجاوے گی تو یہ اور وہ لوٹ جائیں گے کوئی غالب نہ ہوگا ۸؎اور شرط فنا ہوچکے گی پھر جب چوتھا دن ہوگا تو کفار کی طرف بچے کھچے مسلمان اٹھ کھڑے ہوں گے ۹؎تو الله ان کفار پر شکست ڈال دے گا۱۰؎تو مسلمان اس طرح قتل کریں گے کہ اس جیسا نہ دیکھا گیا ہوگا ۱۱∞؎حتی کہ پرندہ ان کے اردگرد گزرے گا تو انہیں پیچھے نہ چھوڑ سکے گا۱۲؎حتی کہ گر کر مرجاوے گا۱۳؎تو ایک دادا کی اولاد جو سو تھی گنی جاوے گی تو ان میں سے ایک کے سوا کسی کو باقی نہ پائیں گے ۱۴؎تو کون سی غنیمت سے خوشی منائی جاوے اور کون سی میراث بانٹی جاوے ۱۵؎جب وہ اس حالت میں ہوں گے کہ اچانک اس سے بڑی جنگ سنیں گے کہ ان تک ایک چیخ آوے گی کہ دجال ان کے پیچھے ان کے بچوں میں پہنچ گیا ۱۶؎تو وہ لوگ چھوڑ دیں گے جو کچھ ان کے ہاتھوں میں ہے اور ادھر متوجہ ہوجا ئیں ۱۷؎تو وہ دس سوار جاسوس بھیجیں گے ۱۸؎رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں ان کے نام انکے باپ دادوں کے نام اور ان کے گھوڑوں کے رنگ پہچانتا ہوں۱۹؎وہ لوگ اس دن روئے زمین پر بہترین سوار ہوں گے۲۰؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎یعنی قریب قیامت مقتول اس قدر زیادہ ہوں گے کہ ان کے بچے کھچے وارث میراث آپس میں نہ بانٹیں گے یا مال اس قدر زیادہ ہوچکا ہوگا لوگ اپنے مورثوں کی میراث نہ بانٹیں گے کہ ہمارے پاس خود اپنا مال اتنا ہے کہ دوسرے مال کا ہم کیا کریں یا اس لیے کہ اس زمانہ میں کوئی عالم نہ ہوگا جو شریعت کے مطابق میراث تقسیم کرے یا بادشاہوں کا ظلم اتنا بڑھا ہوا ہوگا کہ مردوں کے مال کی میراث تقسیم نہ ہونے دیں گے۔سب اپنے بیت المال میں جمع کردیں گے مگر پہلے معنی زیادہ قوی ہیں جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔۲؎اس فرمان عالی کے بھی وہ ہی مطلب ہیں جو ابھی عرض کیے گئے کہ لوگ بہت زیادہ شہید ہوچکے ہوں گے باقی غازی غنیمت تقسیم نہ کریں گے۔جب سو میں سے ایک یا ہزار میں سے ایک بچے تو وہ کیا غنیمت تقسیم کرے یا ظالم بادشاہ غنیمت کا مال خود کھا جائیں گے وغیرہ۔۳؎یہ تفسیر سیدنا ابن مسعود کی ہے۔مطلب یہ ہے کہ شامی مسلمان اور رومی کفار کی جنگ ہوگی یہ اجتماع اسی جنگ کے لیے ہوگا۔عدوسے مراد رومی کفار ہیں۔۴؎یعنی اس جنگ میں شرط لگاکر نکلیں گے کہ یا فتح کریں گے یا شہید ہوجائیں گے،ہم پیٹھ نہ دکھائیں گے،عجیب جذبہ سے جائیں گے یہ شام کے مسلمان ہوں گے۔یا شرطہ شین کے پیش سے فوج کا اگلا دستہ جو دشمن کے مقابل جاوے۔۵؎یعنی جنگ ختم نہ ہوگی بلکہ بند ہوگی وہ بھی رات آجانے کی وجہ سے۔آج کل کی موجودہ جنگیں جو راکٹ،بم،ہوائی جہازوں سے ہوتی ہیں وہ بھی رات میں ہلکی پڑ جاتی ہیں۔فوجی جنگ تو بہت ہی ہلکی ہوجاتی ہے،شہروں پر بم باری بھی ہلکی ہوجاتی ہے۔۶؎یعنی مسلمانوں کا اور کفار کا اگلہ دستہ ختم ہوچکا ہوگا،مسلمان جام شہادت پی چکے ہوں گے،یہ مطلب نہیں کہ صرف مسلمانوں کا دستہ شہید ہوجاوے ورنہ کفار کی فتح ہوجاتی ہے لہذا حدیث واضح ہے۔خیال رہے کہ اس لڑنے والے دستہ کے ساتھ مدد کے لیے اور مسلمان بھی ہوں گے دستہ شہید ہوجاوے گا بقیہ مسلمان لوٹ جاویں گے۔لہذا فرمان عالی پر یہ اعتراض نہیں کہ جب یہ دستہ شہید ہوگیا تو واپس کون لوٹا۔(مرقات)اور اگرشرطہبمعنی شرط ہو تو مطلب ظاہر ہے کہ یہ شرط ختم ہو جاوے گی بغیر غلبہ واپسی ہوگی۔۷؎یہاں بھی شرطہ میں دو احتمال ہیں شین کے فتح سے بمعنی شرط لگانا اور شین کے پیش سے بمعنی دستہ فوج کا تیار کرنا۔(مرقات)۸؎ان آخری دونوں جملوں کے وہ ہی دو معنے ہیں جو ابھی عرض کیے گئے ہیں کہ یا تو وہ غازیوں کا دستہ شہید ہوجاوے گا باقی مسلمان لوٹ جائیں گے یا ان کی یہ شرط ختم ہوجاوے گی بغیر غلبہ کے واپسی ہوگی۔۹؎فہداورنہضدونوں کے معنی ہیں اٹھ کھڑا ہونا یعنی غازیان اسلام ان تین دن کی تکالیف کے بعد ہمت نہ ہاریں گے بلکہ ان میں جوش و خروش بڑھتا ہی جاوے گا اب چوتھی بار بچے کھچے مسلمان کفار پر یلغار کردیں گے۔۱۰؎دبرہبنا ہےدبرسے بمعنی پیچھا یہاں مراد ہے پیچھے کو بھاگنا یعنی بھاگڑ پڑ جانا۔علیہمکا مرجع کفار روم ہیں یعنی اس چوتھے جملہ میں الله تعالٰی کفار روم میں بھاگڑ ڈال دے گا کہ وہ پیٹھ پھیر کرمسلمانوں کے مقابلہ سے بھاگ کھڑے ہوں گے۔۱۱∞؎یعنی کفار میں بھاگڑ پڑ جانے پر ان کا قتل عام ہوجاوے گا،مسلمانوں کے ہاتھوں بہت ہی کفار مارے جائیں گے ایسا قتل عام اس سے پہلے نہ دیکھا گیا ہوگا۔۱۲؎پرندہ سے مراد عام چڑیا ہے اور ہوسکتا ہے کہ اس سے کوا مراد ہو یہ فرمان عالی ان لاشوں کی زیادتی بتانے کے لیے ہے خواہ پرندہ اڑے یا نہ اڑے۔۱۳؎یا تو لاشوں کی بدبو سے مریں گے یا ان کی زیادتی کی وجہ سے کہ اتنی دور تک لاشیں پڑی ہوں گی کہ اس کا فاصلہ پرندہ طے نہ کرسکے گا اڑتے اڑتے مرجاوے گا مگر فاصلہ طے نہ ہوگا،یہ آخری احتمال قوی ہے شاعر کہتا ہے۔شعرلایبلغ السمك المحصور غایتھا لبعد مابین قاصیھا ودانیھا۱۴؎وہ تو کفار مقتولین کا حال تھا اب مسلمان شہداء کی تعداد سنو کہ یہ بقیہ غازی اپنے بچے کھچوں کو شمار کریں گے تو حالت یہ ہوگی کہ جس قبیلہ کے سو آدمی جہاد میں آئے تھے ان میں سے ایک بچا ہوگا ننانوے شہید ہوچکے ہوں گے یعنی ایک فی صد بچے گا۔الله کی پناہ!
۱۵؎وہ جو پہلے ارشاد ہوا تھا کہ غنیمت تقسیم نہ کی جاوے میراث نہ بٹے گی اس کی وجہ یہ ارشاد ہوئی یعنی جب سو میں ایک بچا تو وہ کس کس کی میراث لے اور کیا غنیمت تقسیم کرے لہذا یہ ہی احتمال قوی ہے کہ زیادہ مردوں کی وجہ سے یہ کام ہوگا۔۱۶؎یہ خبر درست ہوگی واقعی دجال نمودار ہوچکا ہوگا پہلی بار جو خبر اڑی تھی وہ غلط تھی جیساکہ پہلے عرض کیا گیا۔۱۷؎اپنے بال بچوں کو دجال سے بچانے کے لیے نہ کہ دجال سے جنگ کرنے کے لیے کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری سے پہلے تو اس سے جنگ ہوگی ہی نہیں اور جناب مسیح کی تشریف آوری پر وہ قتل ہوگا جنگ جب بھی نہ ہوگی۔۱۸؎طلیعہبنا ہےطلعسے بمعنی خبر اسی سے ہے اطلاع یعنی خبر دینا یا خبر پانا۔طلیعہواحد کے لیے بھی آتا ہے جمع کے لیے بھی یعنی مسلمان دس سواریوں کو دجال کی خبر کی تحقیقات کے لیے بھیجیں گے کہ واقعی وہ نکلا ہے یا پہلے کی طرح یہ خبر بھی غلط ہے اگر نکلا ہے تو کہاں ہے کیا کر رہا ہے۔۱۹؎یہ فرمان عالی ان دس حضرات کی عزت افزائی کے لیے ہے ورنہ حضور صلی الله علیہ و سلم ساری مخلوق کے نام کا م ان کی حرکات سکنات جانتے ہیں۔کیوں نہ جانیں کہ حضور سب کے گواہ اور نگران ہیں،رب فرماتاہے:"وَیَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَیۡکُمْ شَہِیۡدًا"خود فرمایالایخفی علی رکوعکم ولا سجودکم ولاخشوعکم(تاقیامت کے)مجھ پر تمہارے رکوع سجدے دل کا خشوع خضوع پوشیدہ نہیں،میں تم سب کے ظاہری اعمال دل کے احوال جانتا ہوں۔یہ ہے حضور انور کا غیب کلی صلی الله علیہ و سلم،حضور ان سب کو ملاحظہ فرمارہے ہیں۔۲۰؎روئے زمین فرماکر فرشتوں کو علیحدہ فرمادیا اور اس دن فرما کر حضرات صحابہ عشرہ مبشرہ وغیرہم کو علیحدہ فرمادیا یعنی اس زمانہ کے موجود مسلمانوں میں سب سے بہتر و افضل یہ لوگ ہوں گے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5422