Main Icon

باب : لڑائیوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5429

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "اتْرُكُوا الْحَبَشَةَ مَا تَرَكُوكُمْ، فَإِنَّهُ لَا يَسْتَخْرِجُ كَنْزَ الْكَعْبَةِ إِلَّا ذُو السُّويقَتَيْنِ مِنَ الْحَبَشَةِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن عبد الله بن عمرو عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "اتركوا الحبشة ما تركوكم، فإنه لا يستخرج كنز الكعبة إلا ذو السويقتين من الحبشة". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمرو سے وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی فرمایا حبشہ کو چھوڑے رہو جب تک وہ یمن چھوڑے رہیں ۱∞؎کیونکہ کعبہ کا خزانہ نہ نکالے گا مگر حبشہ کا ایک چھوٹی پنڈلیوں والا ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ ملک حبشہ آخر زمانہ میں مسلمانوں سے نکل جاوے گا اور وہاں کے باشندے عیسائی یا یہودی ہوجاویں گے،فرمایا گیا کہ تم اس زمانہ میں حبشہ سے جنگ کی ابتداء نہ کرنا۔لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ عہد صحابہ میں حبشہ فتح ہوا بلکہ حضور انور کے زمانہ میں حبشہ میں اسلام پھیلا حتی کہ مسلمان مہاجرین کو پہلے حبشہ میں ہی پناہ ملی اب بھی حبشہ مسلمانوں کا ملک ہے اور وہاں کے باشندے پختہ مسلمان ہیں، حضرت بلال حبشی ہی تھے نہ یہ اعتراض ہے کہ رب تعالٰی فرماتا ہے :"اقْتُلُوۡہُمْ حَیۡثُ وَجَدۡتُّمُوۡہُمْ"پھر حضور انور حبشہ کے جہاد سے کیوں منع فرمارہے ہیں کیونکہ یہ حکم قریب قیامت کے وقت کے لیے ہے۔۲؎مشہور یہ ہے کہ خانہ کعبہ کے نیچے بہت بادشاہوں کا خزانہ مدفون ہے وہ شخص اس خزانہ کے لیے خانہ کعبہ ڈھائے گا۔یہ واقعہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد ہوگا جب قرآن مجید کے ورق سادہ رہ جائیں گے اور دنیا میں کوئی الله الله کہنے والا نہ رہے گا یعنی قیامت سے بالکل متصل۔خیال رہے کہ رب کا فرمان:"وَمَنۡ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا"حکم ہے خبر نہیں یعنی جو حرم کعبہ میں آجاوے اسے امن دے دو یہ مطلب نہیں کہ اسے امن رہے گی لہذا یہ حدیث اس آیت شریفہ کے خلاف نہیں۔یہ حبشی کافر ہوگا عیسائی یا یہودی۔والله اعلم!

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5429