Main Icon

باب : لڑائیوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5424

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "عُمْرَانُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ خَرَابُ يَثْرِبَ،وَخَرَابُ يَثْرِبَ خُرُوجُ الْمَلْحَمَةِ، وَخُرُوجُ الْمَلْحَمَةِ فَتْحُ قُسْطَنْطِينِيَّةَ، وَفَتْحُ قُسْطَنْطِينِيَّةَ خُرُوجُ الدَّجَّال". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

عن معاذ بن جبل قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "عمران بيت المقدس خراب يثرب،وخراب يثرب خروج الملحمة، وخروج الملحمة فتح قسطنطينية، وفتح قسطنطينية خروج الدجال". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ بیت المقدس کی آبادی ۱∞؎مدینہ طیبہ کی ویرانی ہے۲؎اور مدینہ کی ویرانی بڑی جنگ کا ظہور ہے۳؎اور بڑی جنگ کا ظہور قسطنطنیہ کی فتح ہے اور قسطنطنیہ کی فتح دجال کا نکلنا ہے ۴؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎بعض شارحین نے کہا کہ قریب قیامت بیت المقدس ویران ہوجاوے گا کچھ عرصہ کے بعد آباد ہوگا۔مگر یہ درست نہیں بیت المقدس کبھی ویران نہ ہوگا بلکہ اس سے مراد بیت المقدس کی بہت آبادی ہے یعنی وہاں پانی کی فراوانی،شہریوں کی روانی،اعلٰی عمارتوں کی تعمیر یہ قریب قیامت ہوگی۔(مرقات)۲؎اب مدینہ منورہ کو یثرب کہنا منع ہے،یہ فرمان عالی ممانعت سے پہلے کا ہے۔یثرببنا ہےثربسے بمعنی آفت و تکلیف،یثربکے معنی ہیں آفتوں تکلیفوں کی جگہ،چونکہ مدینہ کی زمین وبائی امراض کا مرکز بلکہ سرچشمہ تھی اس لیے اسے یثرب کہتے تھے،حضور کی برکت سے وہ جگہ دارالشفاء بن گئی وہاں کی خاک شفاء ہوگئی لہذا اس کا نام اب طیبہ ہے۔بعض نے کہا کہ یثرب اس شخص کا نام ہے جس نے مدینہ بسایا تھا۔(اشعہ)مگر اس کی ابتداء ڈالنے والا تبع ہے جس کا واقعہ ہم نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے۔۳؎یہ بڑی جنگ وہ ہے جس کا ذکر ابھی ہوچکا کہ اس میں فی صد ایک آدمی بچے گا۔(مرقات و اشعہ)۴؎یعنی قسطنطنیہ کی فتح دجال نکلنے کی علامت ہوگی اس سے قریب ہی دجال نکلے گا یہ مطلب نہیں کہ اس کے متصل لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ فتح بیت المقدس پر شیطان پکارے گا کہ دجال نکل آیا مگر یہ خبر جھوٹی ہوگی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5424