Main Icon

باب :روزے کو پاک و صاف رکھنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1999

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ، فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "من لم يدع قول الزور والعمل به، فليس لله حاجة في أن يدع طعامه وشرابه". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جھوٹی باتیں اور برے کام نہ چھوڑے ۱؎تو اللہ تعالٰی کو اس کے کھانا پانی چھوڑ دینے کی پرواہ نہیں ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں جھوٹی بات سے مراد ہر ناجائز گفتگو ہے،جھوٹ،بہتان،غیبت،چغلی،تہمت،گالی،لعن طعن وغیرہ جن سے بچنا فرض ہے اور برے کام سے مراد ہر ناجائز کام ہے آنکھ کان کا ہو یا ہاتھ پاؤں وغیرہ کا،چونکہ زبان کے گناہ دیگر اعضاء کے گناہوں سے زیادہ ہیں اس لیے ان کا علیحدہ ذکر فرمایا،یہ حدیث بہت جامع ہے۔دو جملہ میں ساری چیزیں بیان فرمادیں اگرچہ برے کام ہر حالت میں اور ہمیشہ ہی برے ہیں مگر روزے کی حالت میں زیادہ برے کہ ان کے کرنے میں روزے کی بے حرمتی اور ماہ رمضان کی بے ادبی ہے اس لیے خصوصیت سے روزے کا ذکر فرمایا ہر جگہ ایک گناہ کا عذاب ایک مگر مکہ مکرمہ میں ایک گناہ کا عذاب ایک لاکھ ہے، کیوں؟ اس زمین پاک کی بے ادبی کی وجہ سے۔
۲
؎یہاں حاجت بمعنی ضرورت نہیں کیونکہ اللہ تعالٰی ضرورتوں سے پاک ہے بلکہ بمعنی توجہ،التفات،پرواہ یعنی اللہ تعالٰی ایسے شخص کا روزہ قبول نہیں فرماتا قبول نہ ہونے سے روزہ گویا فاقہ بن جاتا ہے۔اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ یہ روزہ شرعًا تو درست ہوجائے گا کہ فرض ادا ہوجائے گا مگر قبول نہ ہوگا شرائط جواز تو صرف نیت ہے اور کھانا پینا،صحبت چھوڑدینا مگر شرائط قبول میں باتیں چھوڑنا ہے جو روزہ کا اصل مقصود ہے۔روزہ کا منشاء نفس کا زور توڑنا ہے جس کا انجام گناہ چھوڑنا ہے جب روزے میں گناہ نہ چھوٹے تو معلوم ہوا نفس نہ مرا۔صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ روزہ ہر عضو کا ہونا چاہئیے،صرف حلال چیزوں یعنی کھانے پینے کو نہ چھوڑو بلکہ حرام چیزوں یعنی جھوٹ و غیبت کو بھی چھوڑو،مرقات نے فرمایا کہ ایسے بے باک روزے دارکو اصل روزہ کا ثواب ملے گا اور ان چیزوں کا گناہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1999