Main Icon

باب :روزے کو پاک و صاف رکھنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2011

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- بالْعَرْجِ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ وَهُوَ صَائِمٌ مِنَ الْعَطَشِ أَوْ مِنَ الْحَرِّ. رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُو دَاوُدَ.

وعن بعض أصحاب النبي -صلی اللہ عليه وسلم- قال: لقد رأيت النبي -صلی اللہ عليه وسلم- بالعرج يصب على رأسه الماء وهو صائم من العطش أو من الحر. رواه مالك وأبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ سے فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام عرج میں ۱؎بحالت روزہ سر مبارک پر پیاس یا گرمی کی وجہ سے پانی ڈالتے دیکھا ۲؎(مالک،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎عرج مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ایک منزل کا نام تھا اور مدینہ منورہ میں ایک محلہ بھی تھا،یہاں دونوں احتمال ہیں کہ یا یہ سفر کا واقعہ ہو یا گھر کا۔
۲
؎یعنی غسل نہیں فرمارہے تھے بلکہ ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے صرف سر شریف پر پانی بہارہے تھے۔اس حدیث سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ مسامات کے ذریعہ جو پانی وغیرہ جسم میں پہنچ جائے وہ روزہ کے لیے مضر نہیں لہذا روزے دار کا نہانا پانی میں غوطہ لگانا،سریا جسم پر تیل کی مالش کرنا،بھیگا کپڑا جسم پر لپیٹنا روزے کے لیے مضر نہیں۔ٹیکے(Injection)گودنے کا مسئلہ پہلے بیان ہوچکا کہ ان سے روزہ نہیں جاتا جیسے سانپ،بچھو،بھڑ کے کاٹ لینے سے۔دوسرے یہ کہ روزے میں سر پر پانی ڈالنا،زیادہ نہانا مکروہ نہیں جب کہ گھبراہٹ کے اظہار کے لیے نہ ہو،اگر دکھلاوے اور گھبراہٹ کے اظہار کے لیے ہو تو مکروہ ہے لہذا یہ حدیث امام اعظم کے خلاف نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2011