Main Icon

باب :روزے کو پاک و صاف رکھنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2017

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْبُخَارِيِّ تَعْلِيقًا قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَحْتَجمُ وَهُوَ صَائِمٌ ثُمَّ تَرَكَهُ، فَكَانَ يَحْتَجِمُ بِاللَّيْلِ.

وعن البخاري تعليقا قال: كان ابن عمر يحتجم وهو صائم ثم تركه، فكان يحتجم بالليل.

حدیث ترجمہ

روایت ہے امام بخاری سے تعلیقًا ۱؎فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر روزہ کی حالت میں فصد لیتے تھے پھر چھوڑ دی پھر رات میں فصد لیتے تھے ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎بغیر اسناد حدیث بیان کرنے کو تعلیق کہتے ہیں،تعلیقات بخاری سب مقبول و معتبر ہیں کیونکہ امام بخاری اسی جگہ اسناد چھوڑتے ہیں جہاں انہیں حدیث کی صحت کا یقین ہوتا ہے جب امام بخاری کی تعلیق معتبر ہے تو ثقہ تابعین کا ارسال بھی قبول ہے بلکہ امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا فرما دینا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا بالکل قبول ہے یہ حضرات امام بخاری سے زیادہ رتبہ والے ہیں۔
۲
؎اس کا مطلب ظاہر ہے کہ آپ جوانی اور طاقت کے زمانہ میں روزہ میں فصد لے لیتے تھے کہ اس وقت آپ کو ضعف کا اندیشہ نہ تھا پھر بڑھاپے اور کمزوری میں یہ عمل چھوڑ دیا کیونکہ فصد لے کر روزہ پورا کرنا دشوار تھا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2017