Main Icon

باب :روزے کو پاک و صاف رکھنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2015

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "ثَلَاثٌ لَا يُفْطِرْنَ الصَّائِمَ: الْحِجَامَةُ، وَالْقَيْءُ، وَالِاحْتِلَامُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زيْدٍ الرَّاوِي يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ.

عن أبي سعيد قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "ثلاث لا يفطرن الصائم: الحجامة، والقيء، والاحتلام". رواه الترمذي، وقال: هذا حديث غير محفوظ، وعبد الرحمن بن زيد الراوي يضعف في الحديث.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزیں روزہ دار کا روزہ نہیں توڑتیں فصد،قے،احتلام ۱؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غیر محفوظ ہے اورعبد الرحمن ابن زید راوی حدیث میں ضعیف مانے جاتے ہیں ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎اس کی تحقیق پہلے کی جاچکی ہے۔قے سے مراد وہ قے ہے جو خود بخود ہوجائے لہذا یہ حدیث گزشتہ اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں قے کو روزہ ٹوٹنے کا سبب قرار دیا گیا کیونکہ وہاں وہ قے مراد تھی جو خود کی جائے۔
۲
؎لہذا یہ شاذ بھی ہے اور ضعیف بھی۔خیال رہے کہ یہ حدیث صرف ترمذی کی اسناد میں ضعیف ہے اسے دار قطنی،بیہقی،ابوداؤد نے بھی روایت کیا،ابو حاتم نے کہا کہ ابوداؤد کی روایت اشبہ بالثواب ہے،ابو زرعہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث بہت ہی صحیح ہے،بزار نے سیدنا عبد اللہ ابن عبا س سے اور طبرانی نے ثوبان سے مرفوعًا روایت کی،بزار نے فرمایا حدیث صحیح ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2015