Main Icon

باب :روزے کو پاک و صاف رکھنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2003

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ نَسِيَ وَهُوَ صَائِمٌ فَأَكَلَ أَوْ شَرِبَ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللّٰهُ وَسَقَاهُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "من نسي وهو صائم فأكل أو شرب فليتم صومه، فإنما أطعمه الله وسقاه". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے جو بحالت روزہ بھول جائے کھاپی لے وہ اپنا روزہ پورا کرے ۱؎کہ اسے رب تعالٰی نے کھلایا پلایا ہے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حکم فرض و نفل تمام روزوں کے لیے ہے کہ ان میں بھول کر کھا پی لینے سے روزہ نہیں جاتا۔بھول یہ ہے کہ روزہ یاد نہ رہے اور کھانا پینا ارادۃً ہو اس میں نہ قضا ہے نہ کفارہ۔خطا یہ ہے کہ روزہ یاد ہو مگر بغیر ارادہ پانی حلق سے اتر جائے جیسے کلی یا غرارہ کرتے وقت اس میں قضا ہےکفارہ نہیں۔عمد یہ ہے کہ روزہ بھی یاد ہو کھانا پینا بھی ارادۃً ہو اس میں ماہ رمضان میں قضا بھی ہے کفارہ بھی،جماع بھی کھانے پینے کے حکم میں ہے لہذا اگر روزہ دار بھول کر صحبت کرلے تو بھی روزہ نہیں جائے گا،یہ ہی احناف کا مذہب ہے۔فلیتمامر سے معلوم ہوتا ہے کہ نفلی روزہ شروع کردینے سے فرض ہوجاتا ہے اس کا پورا کرنا فرض ہے۔
۲
؎یعنی یہ بھول رب تعالٰی کی رحمت ہے،اس نےچاہا کہ میرا بندہ کھا پی بھی لے اور اس کا روزہ بھی ہوجائے۔ خیال رہے کہ ہماری بھول چوک غفلت و کمزوری کی بنا پر ہوتی ہے مگر اس پر معافی دینا رب تعالٰی کی طرف سے ہے لہذا حدیث پر یہ ا عتراض نہیں کہ بھول تو شیطانی اثر سے ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ مَاۤ اَنۡسٰنِیۡہُ اِلَّا الشَّیۡطٰنُ"پھر اسے رب کی طرف منسوب کیوں فرمایا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2003