Main Icon

باب :روزے کو پاک و صاف رکھنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2008

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مَعْدَانَ بْنِ طَلْحَةَ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَاءَ فَأَفْطَرَ. قَالَ: فَلَقِيتُ ثَوْبَانَ في مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَقُلْتُ: إِنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ حَدَّثَنِي أَن رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَاءَ فَأَفْطَرَ. قَالَ: صَدَقَ، وَأَنَا صَبَبْتُ لَهٗ وَضُوْءَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ.

وعن معدان بن طلحة أن أبا الدرداء حدثه أن رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- قاء فأفطر. قال: فلقيت ثوبان في مسجد دمشق فقلت: إن أبا الدرداء حدثني أن رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- قاء فأفطر. قال: صدق، وأنا صببت له وضوءه. رواه أبو داود والترمذي والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معدان ابن طلحہ ۱؎سے کہ ابو الدرداء نے انہیں خبردی کہ رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے قے کی تو روزہ افطارکردیا۲؎فرماتے ہیں کہ میں دمشق کی مسجد میں حضرت ثوبان سے ملا میں نے کہا کہ حضرت ابوالدرداء نے مجھے خبر دی کہ رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے قے کی تو روزہ افطار فرمادیا فرمایا انہوں نے سچ کہا اور میں نے آپ کے لیے وضو کا پانی انڈیلا۳؎(ابوداؤد،ترمذی،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ جلیل القدر تابعی ہیں،حضرت عمر حضرت ابوالدرداء و ثوبان سے احادیث روایت کرتے ہیں۔
۲
؎یعنی حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے روزے میں عمدًا قے کی کسی ضرورت سے تو اسے روزے کا مفسد مانا جس کے بعد کھانا وغیرہ ملاحظہ فرمالیا۔
۳
؎حضرت ثوبان حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں،انہوں نے حضرت ابوالدرداء کی تصدیق فرماتے ہوئے اپنا واقعہ بیان فرمایا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے قے کو ناقض وضو بھی قرار دیا۔چنانچہ آپ نے وضو کیا اور پانی میں نے حاضر کیا۔اس سے معلوم ہوا کہ منہ بھرکر قے روزہ بھی توڑ دیتی ہے اور وضو بھی،یہ ہی ہمارا مذہب ہے یہ حدیث ہمارے امام اعظم قدس سرہ کی دلیل ہے،امام شافعی کے ہاں قے سے وضو نہیں ٹوٹتا وہ یہاں وضو سے مراد کلی کرنا لیتے ہیں مگر قول امام اعظم قوی تر ہے بلاوجہ شرعی معنی چھوڑنا کمزورسی بات ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2008