Main Icon

باب :روزے کو پاک و صاف رکھنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2004

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! هَلَكْتُ، قَالَ: "مَا لَكَ؟ " قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي وَأَنَا صَائِمٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "هَلْ تَجدُ رَقَبَةً تُعْتِقُهَا؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: "فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: "هَلْ تَجِدُ إِطْعَامَ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: "اجْلِسْ" وَمَكَثَ النَّبِيُّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، فَبَيْنَا نَحْنُ عَلَى ذٰلِكَ أُتِيَ النَّبِيُّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ، -وَالْعَرَقُ: الْمِكْتَلُ الضَّخْمُ- قَالَ: "أَيْنَ السَّائِلُ؟ " قَالَ: أَنَا، قَالَ: "خُذْ هٰذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ". فَقَالَ الرَّجُلُ: أَعَلَى أَفْقَرَ مِنِّي يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ فَوَاللّٰهِ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا -يُرِيدُ الْحَرَّتَيْنِ- أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي، فَضَحِكَ النَّبِيُّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ، ثُمَّ قَالَ: "أَطْعِمْهُ أَهْلَكَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعنه قال: بينما نحن جلوس عند النبي -صلی اللہ عليه وسلم- إذ جاءه رجل فقال: يا رسول الله! هلكت، قال: "ما لك؟ " قال: وقعت على امرأتي وأنا صائم. فقال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "هل تجد رقبة تعتقها؟ " قال: لا، قال: "فهل تستطيع أن تصوم شهرين متتابعين؟ " قال: لا، قال: "هل تجد إطعام ستين مسكينا؟ " قال: لا، قال: "اجلس" ومكث النبي -صلی اللہ عليه وسلم-، فبينا نحن على ذلك أتي النبي -صلی اللہ عليه وسلم- بعرق فيه تمر، -والعرق: المكتل الضخم- قال: "أين السائل؟ " قال: أنا، قال: "خذ هذا فتصدق به". فقال الرجل: أعلى أفقر مني يا رسول الله؟ فوالله ما بين لابتيها -يريد الحرتين- أهل بيت أفقر من أهل بيتي، فضحك النبي -صلی اللہ عليه وسلم- حتى بدت أنيابه، ثم قال: "أطعمه أهلك". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں تھے کہ حضور کی خدمت میں ایک شخص آیا ۱؎عرض کیا یارسول اللہ میں تو ہلاک ہوگیا ۲؎فرمایا تجھے کیا ہوا عرض کیا میں نے بحالت روزہ اپنی بیوی سے صحبت کرلی ۳؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تو غلام پاتا ہے جسے آزادکردے ۴؎بولا نہیں فرمایا تو کیا مسلسل دو ماہ کے روزے رکھ سکتا ہے بولا نہیں ۵؎فرمایا کیا ساٹھ مسکینوں کا کھانا پاتا ہے بولا نہیں ۶؎فرمایا بیٹھ جا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ توقف فرمایا ۷؎ہم اسی حال میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں زنبیل لائی گئی جس میں کھجوریں تھیں عرق بڑی زنبیل ہوتی ہے ۸؎فرمایا مسئلہ پوچھنے والا کہاں ہے بولا میں ہوں فرمایا یہ لے لے اور صدقہ کردے ۹؎اس شخص نے عرض کیا یارسول اللہ کیا اپنے سے زیادہ محتاج پر صدقہ کروں خدا کی قسم مدینہ کے دو گوشوں یعنی دو سنگلاخوں کے بیچ میرے گھر والوں سے زیادہ کوئی خاندان محتاج نہیں ۱۰؎نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے حتی کہ آپ کے دانت مبارک چمک گئے ۱۱؎فرمایا اپنے گھر والوں کو ہی کھلا ۱۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حاضر ہونے والے صاحب حضرت سلمہ ابن صخر انصاری بیاضی ہیں،بعض نے فرمایا ان کا نام سلیمان انصاری ہے مگر پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔انہوں نے رمضان میں بحالت روزہ دن میں اپنی زوجہ سے صحبت کرلی تھی اس لیے حاضر بارگاہ ہوئے۔
۲
؎اس طرح کہ اسلامی قانون شکنی کرکے سخت سزا کا مستحق ہوچکا اور اپنی بیوی کو اس جرم میں مبتلا کردیا کہ وہ بھی روزہ دارتھیں اس لیے ہلاکت کو صرف اپنی طرف نسبت کیا یہ نہ کہا کہ ہم دونوں ہلاک ہوگئے کہ وہ بے قصور تھیں انہوں نے جبرًا صحبت کی تھی۔
۳
؎بیوی کو مجبور کرکے وہ اس پر نہ راضی تھی نہ اس کے لیے آمادہ تھی۔
۴
؎اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ ماہ رمضان میں بحالت روزہ عمدًا دن میں صحبت کرلینے سے قضاءبھی واجب ہے کفارہ بھی۔دوسرے یہ کہ عمدًا کھا پی لینے سے بھی کفارہ واجب ہے کیونکہ کفارہ کا سبب رمضان میں روزہ توڑنا ہے،روزہ جیسے جماع سے ٹوٹ جاتا ہے ویسے ہی کھانے پینے سے۔تیسرے یہ کہ اگر عورت سے جبرًا صحبت کی ہو تو اس پر کفارہ نہیں بلکہ مرد پر ہوگا کیونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے کفارہ میں صرف مرد سے خطاب فرمایا۔چوتھے یہ کہ کفارہ میں ترتیب معتبر ہے کہ اگر غلام آزاد کرسکتا ہے تو یہ کرے اگر غلام نہ پائے تو دو ماہ کے مسلسل روزے اگر یہ ناممکن ہو تو ساٹھ مسکینوں کا کھانا۔دارقطنی میں
بروایت حضرت ابوہریرہ ہے کہ ایک شخص نے رمضان کے دن میں بحالت روزہ عمدًا کھالیا تھا اسے بھی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے غلا م آزاد کرنے کاحکم دیا،اسی دار قطنی میں بروایت سعید ابن المسیب ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ میں نے روزہ توڑ دیا ہے اسے بھی کفارہ کا حکم دیا گیا۔بہرحال رمضان میں جس طرح بھی عمدًا روزہ توڑے کفارہ واجب ہے یہ ہی احناف کا قول ہے۔
۵
؎یعنی مجھ میں دو ماہ مسلسل روزہ رکھنے کی طاقت نہیں کہ اپنے نفس کو بیوی سے نہیں روک سکتا جیساکہ دوسری روایت میں وارد ہے۔معلوم ہوا کہ روزے کی طاقت نہ ہونا،بڑھاپے،بیماری،غلبہ شہوت ہر طرح ثابت ہوجاتا ہے۔
۶
؎یعنی میرے پاس اپنے کھانے کو نہیں ہے ساٹھ مسکینوں کو کہاں سے کھلاؤں جیساکہ دوسری روایت میں ہے۔
۷
؎یعنی انتظار فرمایا کہ کہیں سے کچھ آجائے تو اس کو ادائے کفارہ کے لیے دے دیا جائے۔خیال رہے کہ ایسے فقیر پر کفارہ واجب نہیں صرف توبہ کرے مگر یہاں کا یہ واقعہ خصوصیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔
۸
؎یہ کھجوریں صدقہ کی تھیں جو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں خیرات کرنے کے لیے حاضر کی گئی تھیں۔عرق وہ بڑا ٹوکرہ ہے جس میں تیس صاع کھجوریں آتی ہیں۔کفارہ میں ساٹھ مسکینوں کو فی مسکین آدھا صاع کھجوریں دی جاتی ہیں لہذا یہ کھجوریں اس کے کفارے کے لیے کافی تھیں،بعض نے فرمایا کہ اس زنبیل میں پندرہ صاع کھجوریں تھیں ہر مسکین کو چوتھائی صاع یعنی مد کھجوریں دی جائیں۔
۹
؎یعنی اس صدقہ کا پہلے تو مالک بن جا پھر مالک ہوکر اپنی طرف سے ساٹھ مسکینوں کو خیرات کردے کیونکہ ملک بدلنے سے حکم بدل جاتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ شرعی حیلے درست ہیں کہ کسی فقیر کو زکوۃ کا مالک بنادیا پھر وہ زکوۃ اس سے دوسری جگہ خیرات کرادی،سید کو دلوادی یا مسجد میں خرچ کرادی۔حیلے کی مکمل بحث ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ اول میں ملاحظہ فرمائیے جہاں آیات قرآنیہ و احادیث نبویہ سے اس کا ثبوت دیا گیاہے۔
۱۰
؎یعنی کفارہ فقیروں کو دینا چاہیے مگر مدینہ منورہ میں سب سے زیادہ فقیرو حاجت مند ہم ہی ہیں۔مطلب یہ تھا کہ اجازت ہو تو اسے میں اور میرے بال بچے ہی کھالیں،طلب کے لیے بھی منہ چاہئیے کس ڈھنگ سے داتاسے مانگا۔
۱۱
؎یعنی مسکرائے یہاں تک کہ آپ کے دانت مبارک میں سے کیلیاں ظاہر ہوگئیں۔
۱۲
؎یعنی اپنا یہ کفارہ تو خود بھی کھالے اور اپنے گھر والوں کو بھی کھلا دے تیرا کفارہ ادا ہوجائے گا۔یہ ہے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا اختیار خداداد کہ مجرم کے لیے اس کا کفارہ اس کے لیے انعام بنادیا ورنہ کوئی شخص اپنا کفارہ اپنی زکوۃ نہ تو خود کھاسکتا ہے نہ اس کے بیوی بچے مگر یہاں اس کا اپنا ہی کفارہ ہے اور اپنے آپ ہی کھارہا ہے۔یہاں بعض لوگوں نے بڑے غوطے کھائے ہیں کہتے ہیں کہ یہ کفارہ نہ تھا کیونکہ وہ فقیر تھا اور ایسے فقیر پر مالی کفارہ واجب نہیں بلکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ ابھی تو یہ کھالے جب کبھی تیرے پاس مال آئے تو کفارہ ادا کردینا مگر یہ غلط ہے چند وجہوں سے:ایک یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف فرمایافَتَصَدَّقْ بِہٖاس کا صدقہ دے دے پھر یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ یہ کفارہ نہ تھا،اگر فقیر کو بقدر کفارہ مال دے دیا جائے تو وہ کفارہ ضرور دےیہاں ایسا ہی ہوا۔دوسرے یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے یہ نہ فرمایا کہ آئندہ تو کفارہ دے دینا،تم یہ کہاں سے کہتے ہو یہ قید اپنی طرف سے ہے حدیث میں نہیں۔تیسرے یہ کہ روایات میں ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ صرف تجھے ہی کافی ہے دوسرے کو کافی نہ ہوگا۔(ہدایہ)اگر آئندہ کفارہ دلوانا ہوتا تو اس خصوصیت کے کیا معنے۔چوتھے یہ کہ دارقطنی میں اس حدیث کے آخر میں ہے کہ اللہ نے تیرا کفارہ ادا کردیا،پھر آئندہ کفارہ دینے کے کیا معنے۔ پانچویں یہ کہ امام زہری وغیرہ محدثین نے اسے اس شخص کی خصوصیات سے مانا،دیکھو مرقات و اشعۃ اللمعات وغیرہ۔غرضکہ یہ تاویل بہت رکیک ہے حق وہ ہی ہے جو فقیر نے عرض کیا کہ یہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے خداداد اختیارات میں سے ہے۔اس اختیار کی پوری بحث ہماری کتاب"سلطنت مصطفی"میں ملاحظہ فرمائیے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2004