- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- روزے کا بیان
- حدیث نمبر 2004
باب :روزے کو پاک و صاف رکھنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2004
روزے کا بیان - جلد 3
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! هَلَكْتُ، قَالَ: "مَا لَكَ؟ " قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي وَأَنَا صَائِمٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "هَلْ تَجدُ رَقَبَةً تُعْتِقُهَا؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: "فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: "هَلْ تَجِدُ إِطْعَامَ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: "اجْلِسْ" وَمَكَثَ النَّبِيُّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، فَبَيْنَا نَحْنُ عَلَى ذٰلِكَ أُتِيَ النَّبِيُّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ، -وَالْعَرَقُ: الْمِكْتَلُ الضَّخْمُ- قَالَ: "أَيْنَ السَّائِلُ؟ " قَالَ: أَنَا، قَالَ: "خُذْ هٰذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ". فَقَالَ الرَّجُلُ: أَعَلَى أَفْقَرَ مِنِّي يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ فَوَاللّٰهِ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا -يُرِيدُ الْحَرَّتَيْنِ- أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي، فَضَحِكَ النَّبِيُّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ، ثُمَّ قَالَ: "أَطْعِمْهُ أَهْلَكَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وعنه قال: بينما نحن جلوس عند النبي -صلی اللہ عليه وسلم- إذ جاءه رجل فقال: يا رسول الله! هلكت، قال: "ما لك؟ " قال: وقعت على امرأتي وأنا صائم. فقال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "هل تجد رقبة تعتقها؟ " قال: لا، قال: "فهل تستطيع أن تصوم شهرين متتابعين؟ " قال: لا، قال: "هل تجد إطعام ستين مسكينا؟ " قال: لا، قال: "اجلس" ومكث النبي -صلی اللہ عليه وسلم-، فبينا نحن على ذلك أتي النبي -صلی اللہ عليه وسلم- بعرق فيه تمر، -والعرق: المكتل الضخم- قال: "أين السائل؟ " قال: أنا، قال: "خذ هذا فتصدق به". فقال الرجل: أعلى أفقر مني يا رسول الله؟ فوالله ما بين لابتيها -يريد الحرتين- أهل بيت أفقر من أهل بيتي، فضحك النبي -صلی اللہ عليه وسلم- حتى بدت أنيابه، ثم قال: "أطعمه أهلك". متفق عليه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں تھے کہ حضور کی خدمت میں ایک شخص آیا ۱؎عرض کیا یارسول اللہ میں تو ہلاک ہوگیا ۲؎فرمایا تجھے کیا ہوا عرض کیا میں نے بحالت روزہ اپنی بیوی سے صحبت کرلی ۳؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تو غلام پاتا ہے جسے آزادکردے ۴؎بولا نہیں فرمایا تو کیا مسلسل دو ماہ کے روزے رکھ سکتا ہے بولا نہیں ۵؎فرمایا کیا ساٹھ مسکینوں کا کھانا پاتا ہے بولا نہیں ۶؎فرمایا بیٹھ جا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ توقف فرمایا ۷؎ہم اسی حال میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں زنبیل لائی گئی جس میں کھجوریں تھیں عرق بڑی زنبیل ہوتی ہے ۸؎فرمایا مسئلہ پوچھنے والا کہاں ہے بولا میں ہوں فرمایا یہ لے لے اور صدقہ کردے ۹؎اس شخص نے عرض کیا یارسول اللہ کیا اپنے سے زیادہ محتاج پر صدقہ کروں خدا کی قسم مدینہ کے دو گوشوں یعنی دو سنگلاخوں کے بیچ میرے گھر والوں سے زیادہ کوئی خاندان محتاج نہیں ۱۰؎نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے حتی کہ آپ کے دانت مبارک چمک گئے ۱۱؎فرمایا اپنے گھر والوں کو ہی کھلا ۱۲؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎یہ حاضر ہونے والے صاحب حضرت سلمہ ابن صخر انصاری بیاضی ہیں،بعض نے فرمایا ان کا نام سلیمان انصاری ہے مگر پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔انہوں نے رمضان میں بحالت روزہ دن میں اپنی زوجہ سے صحبت کرلی تھی اس لیے حاضر بارگاہ ہوئے۔
۲؎اس طرح کہ اسلامی قانون شکنی کرکے سخت سزا کا مستحق ہوچکا اور اپنی بیوی کو اس جرم میں مبتلا کردیا کہ وہ بھی روزہ دارتھیں اس لیے ہلاکت کو صرف اپنی طرف نسبت کیا یہ نہ کہا کہ ہم دونوں ہلاک ہوگئے کہ وہ بے قصور تھیں انہوں نے جبرًا صحبت کی تھی۔
۳؎بیوی کو مجبور کرکے وہ اس پر نہ راضی تھی نہ اس کے لیے آمادہ تھی۔
۴؎اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ ماہ رمضان میں بحالت روزہ عمدًا دن میں صحبت کرلینے سے قضاءبھی واجب ہے کفارہ بھی۔دوسرے یہ کہ عمدًا کھا پی لینے سے بھی کفارہ واجب ہے کیونکہ کفارہ کا سبب رمضان میں روزہ توڑنا ہے،روزہ جیسے جماع سے ٹوٹ جاتا ہے ویسے ہی کھانے پینے سے۔تیسرے یہ کہ اگر عورت سے جبرًا صحبت کی ہو تو اس پر کفارہ نہیں بلکہ مرد پر ہوگا کیونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے کفارہ میں صرف مرد سے خطاب فرمایا۔چوتھے یہ کہ کفارہ میں ترتیب معتبر ہے کہ اگر غلام آزاد کرسکتا ہے تو یہ کرے اگر غلام نہ پائے تو دو ماہ کے مسلسل روزے اگر یہ ناممکن ہو تو ساٹھ مسکینوں کا کھانا۔دارقطنی میں
بروایت حضرت ابوہریرہ ہے کہ ایک شخص نے رمضان کے دن میں بحالت روزہ عمدًا کھالیا تھا اسے بھی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے غلا م آزاد کرنے کاحکم دیا،اسی دار قطنی میں بروایت سعید ابن المسیب ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ میں نے روزہ توڑ دیا ہے اسے بھی کفارہ کا حکم دیا گیا۔بہرحال رمضان میں جس طرح بھی عمدًا روزہ توڑے کفارہ واجب ہے یہ ہی احناف کا قول ہے۔
۵؎یعنی مجھ میں دو ماہ مسلسل روزہ رکھنے کی طاقت نہیں کہ اپنے نفس کو بیوی سے نہیں روک سکتا جیساکہ دوسری روایت میں وارد ہے۔معلوم ہوا کہ روزے کی طاقت نہ ہونا،بڑھاپے،بیماری،غلبہ شہوت ہر طرح ثابت ہوجاتا ہے۔
۶؎یعنی میرے پاس اپنے کھانے کو نہیں ہے ساٹھ مسکینوں کو کہاں سے کھلاؤں جیساکہ دوسری روایت میں ہے۔
۷؎یعنی انتظار فرمایا کہ کہیں سے کچھ آجائے تو اس کو ادائے کفارہ کے لیے دے دیا جائے۔خیال رہے کہ ایسے فقیر پر کفارہ واجب نہیں صرف توبہ کرے مگر یہاں کا یہ واقعہ خصوصیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔
۸؎یہ کھجوریں صدقہ کی تھیں جو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں خیرات کرنے کے لیے حاضر کی گئی تھیں۔عرق وہ بڑا ٹوکرہ ہے جس میں تیس صاع کھجوریں آتی ہیں۔کفارہ میں ساٹھ مسکینوں کو فی مسکین آدھا صاع کھجوریں دی جاتی ہیں لہذا یہ کھجوریں اس کے کفارے کے لیے کافی تھیں،بعض نے فرمایا کہ اس زنبیل میں پندرہ صاع کھجوریں تھیں ہر مسکین کو چوتھائی صاع یعنی مد کھجوریں دی جائیں۔
۹؎یعنی اس صدقہ کا پہلے تو مالک بن جا پھر مالک ہوکر اپنی طرف سے ساٹھ مسکینوں کو خیرات کردے کیونکہ ملک بدلنے سے حکم بدل جاتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ شرعی حیلے درست ہیں کہ کسی فقیر کو زکوۃ کا مالک بنادیا پھر وہ زکوۃ اس سے دوسری جگہ خیرات کرادی،سید کو دلوادی یا مسجد میں خرچ کرادی۔حیلے کی مکمل بحث ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ اول میں ملاحظہ فرمائیے جہاں آیات قرآنیہ و احادیث نبویہ سے اس کا ثبوت دیا گیاہے۔
۱۰؎یعنی کفارہ فقیروں کو دینا چاہیے مگر مدینہ منورہ میں سب سے زیادہ فقیرو حاجت مند ہم ہی ہیں۔مطلب یہ تھا کہ اجازت ہو تو اسے میں اور میرے بال بچے ہی کھالیں،طلب کے لیے بھی منہ چاہئیے کس ڈھنگ سے داتاسے مانگا۔
۱۱؎یعنی مسکرائے یہاں تک کہ آپ کے دانت مبارک میں سے کیلیاں ظاہر ہوگئیں۔
۱۲؎یعنی اپنا یہ کفارہ تو خود بھی کھالے اور اپنے گھر والوں کو بھی کھلا دے تیرا کفارہ ادا ہوجائے گا۔یہ ہے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا اختیار خداداد کہ مجرم کے لیے اس کا کفارہ اس کے لیے انعام بنادیا ورنہ کوئی شخص اپنا کفارہ اپنی زکوۃ نہ تو خود کھاسکتا ہے نہ اس کے بیوی بچے مگر یہاں اس کا اپنا ہی کفارہ ہے اور اپنے آپ ہی کھارہا ہے۔یہاں بعض لوگوں نے بڑے غوطے کھائے ہیں کہتے ہیں کہ یہ کفارہ نہ تھا کیونکہ وہ فقیر تھا اور ایسے فقیر پر مالی کفارہ واجب نہیں بلکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ ابھی تو یہ کھالے جب کبھی تیرے پاس مال آئے تو کفارہ ادا کردینا مگر یہ غلط ہے چند وجہوں سے:ایک یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف فرمایافَتَصَدَّقْ بِہٖاس کا صدقہ دے دے پھر یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ یہ کفارہ نہ تھا،اگر فقیر کو بقدر کفارہ مال دے دیا جائے تو وہ کفارہ ضرور دےیہاں ایسا ہی ہوا۔دوسرے یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے یہ نہ فرمایا کہ آئندہ تو کفارہ دے دینا،تم یہ کہاں سے کہتے ہو یہ قید اپنی طرف سے ہے حدیث میں نہیں۔تیسرے یہ کہ روایات میں ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ صرف تجھے ہی کافی ہے دوسرے کو کافی نہ ہوگا۔(ہدایہ)اگر آئندہ کفارہ دلوانا ہوتا تو اس خصوصیت کے کیا معنے۔چوتھے یہ کہ دارقطنی میں اس حدیث کے آخر میں ہے کہ اللہ نے تیرا کفارہ ادا کردیا،پھر آئندہ کفارہ دینے کے کیا معنے۔ پانچویں یہ کہ امام زہری وغیرہ محدثین نے اسے اس شخص کی خصوصیات سے مانا،دیکھو مرقات و اشعۃ اللمعات وغیرہ۔غرضکہ یہ تاویل بہت رکیک ہے حق وہ ہی ہے جو فقیر نے عرض کیا کہ یہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے خداداد اختیارات میں سے ہے۔اس اختیار کی پوری بحث ہماری کتاب"سلطنت مصطفی"میں ملاحظہ فرمائیے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2004