Main Icon

باب :روزے کو پاک و صاف رکھنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2010

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: اشْتَكَيْتُ عَيْنَيَّ أفأَكْتَحِلُ وَأَنَا صَائِمٌ؟ قَالَ: "نَعَمْ" رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ، وَأَبُو عَاتِكَةَ الرَّاوِي يُضَعَّفُ.

وعن أنس قال: جاء رجل إلى النبي -صلی اللہ عليه وسلم- قال: اشتكيت عيني أفأكتحل وأنا صائم؟ قال: "نعم" رواه الترمذي، وقال: ليس إسناده بالقوي، وأبو عاتكة الراوي يضعف.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا بولا میں آنکھوں کا بیمار ہوں کیا بحالت روزہ سرمہ لگاسکتا ہوں فرمایا ہاں ۱؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا کہ اس کی اسناد قوی نہیں ابو عاتکہ راوی ضعیف مانے جاتے ہیں ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یہی تینوں اماموں کا مذہب ہے یعنی امام ابوحنیفہ،شافعی و مالک کہ روزہ دار کو سرمہ لگانا،آنکھ میں خشک یا پتلی اگرچہ چکنی ہو دوا ڈالنا ہر وقت جائز ہے یعنی سونے سے پہلے بھی اور بعد بھی اگر دوا کا رنگ یا مزا حلق میں محسوس ہو جب بھی مضر نہیں،امام احمد سونے سے پہلے سرمہ لگانا مکروہ فرماتے ہیں یہ حدیث ان تینوں آئمہ کی دلیل ہے۔
۲
؎یہ حدیث بہت طریقوں سے مختلف اسنادوں سے بہت کتب میں مروی ہے تمام اسنادیں ضعیف ہیں لیکن زیادتی اسناد اور عمل علماء کی وجہ سے قوی ہوگئی تمام اسنادیں بالتفصیل یہاں مرقات نے نقل فرمائیں اور اس کی پوری تحقیق ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ دوم میں دیکھو کہ تعدد اسناد اور عمل علماء سے حدیث ضعیف بھی قوی ہوجاتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2010