Main Icon

باب:وعظ و شعر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4783

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَدِمَ رَجُلَانِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَخَطَبَا فَعَجِبَ النَّاسُ لِبَيَانِهِمَا فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

عن ابن عمر قال: قدم رجلان من المشرق فخطبا فعجب الناس لبيانهما فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن من البيان لسحرا . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں دو شخص مشرق سے آئے ۱∞؎انہوں نے وعظ کیا ا ن کی تقریر پر لوگوں نے تعجب کیا تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض بیان جادو ہیں ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ان دونوں کا نام زبرقان ابن بدر اور عمرو ابن اہشم تھا،یہ دونوں مدینہ منورہ کے مشرقی علاقہ سے آئے تھے،زبرقان نے اپنے فضائل میں بہت فصیح و بلیغ بیان دیا،پھر عمرو ابن اہشم نے زبرقان کی برائی و ہجو میں بہت فصیح کلام کیا جیساکہ زمانہ جاہلیت کے فصحاء اور خطباء کا طریقہ تھا۔
۲
؎یعنی بعض کلام لوگوں کے دل اپنی طرف مائل کرنے میں،لوگوں کو حیران کر دینے میں جادو کا سا اثر رکھتے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ بعض کلام جادو کی طرح حرام و باطل ہیں گناہ ہیں کہ ان میں جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بناکر دکھایا جاتا ہے غرضیکہ یہ فرمان یا بیان کی تعریف کے لیے ہے یا اس کی برائی کے لیے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4783