Main Icon

باب:وعظ و شعر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4785

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُوْنَ . قَالَهَا ثَلَاثًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن ابن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: هلك المتنطعون . قالها ثلاثا. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ ہلاک ہوگئے گہری باتیں کرنے والے یہ تین بار کہا ۱∞؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎تنطعبنا ہےنطعسے بمعنی حلق یا منہ کا غار،اس کے لفظی معنی ہیں حلق سے نیچے سے بات نکالنے والے اور مراد ہے نہایت فصیح و بلیغ اور مبالغہ آمیز مگر بے فائدہ بلکہ نقصان دہ کلام کرنے والے جیساکہ خوشامدی (جھولی چک)لوگ امیروں کی تعریف میں عمومًا کرتے ہیں۔کلام وہ ہے کہ سادہ ہو تھوڑا ہو مگر دل کی گہرائیوں سے نکلے اس کا دوسرے پر اثر ہوتا ہے قرآن و حدیث کی فصاحت بناوٹی نہیں نہ بیکار ہے بلکہ اس سے بے شمار فائدے ہیں کلام کی شیرینی الله کی رحمت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4785