Main Icon

باب:وعظ و شعر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4801

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي بِقَوْمٍ تُقْرَضُ شَفَاهُمْ بِمَقَارِيْضَ النَّارِ فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ خُطَبَاءُ أُمَّتِكَ الَّذِينَ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ

وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " مررت ليلة أسري بي بقوم تقرض شفاهم بمقاريض النار فقلت: يا جبريل من هؤلاء؟ قال: هؤلاء خطباء أمتك الذين يقولون ما لا يفعلون ". رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جس رات ہم کو سیر کرائی گئی(معراج)ہم ایسی قوم پرگزرے جن کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جارہے تھے ۱∞؎تو ہم نے کہا کہ جبریل یہ کون لوگ ہیں فرمایا یہ آپ کی امت کے واعظین ہیں۲؎جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں ۳؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی لوہے کی قینچی آگ سے گرم کی ہوئی۔آگ بھی دوزخ کی تو ان کا تپنا گرم ہونا بھی نہایت ہی سخت ہوگا۔
۲
؎مرقات نے فرمایا کہ خطباء میں بے عمل عالم واعظ شاعر سب ہی داخل ہیں۔خیال رہے کہ بے عمل عالم سے بدعمل عالم زیادہ برا بھی ہے خطرناک بھی۔
۲
؎فی زمانہ واعظین عمل کا وعظ ہی نہیں کرتے شعر خوانی خوش الحانی قصے کہانی میں وقت پوراکرتے ہیں عام جلسے گویا حلال سینما ہیں کہ سننے والے بھی تماشائی ذہن عیاش ہوتے ہیں،ہم نے وہ زمانہ دیکھا ہے جب مسلمان علماء کے وعظ سن کر بعد میں یاد کرتے تھے کہ مولوی صاحب نے آج فلاں فلاں مسئلہ بیان کیا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4801