Main Icon

باب:وعظ و شعر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4789

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ البَراءِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ: اُهْجُ الْمُشْرِكِينَ فَإِنَّ جِبْرِيْلَ مَعَكَ وَكَانَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِحَسَّانَ: أَجِبْ عَنِّي اللّٰهُمَّ أيِّدْه بِرُوْحِ الْقُدُسِ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن البراء قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم يوم قريظة لحسان بن ثابت: اهج المشركين فإن جبريل معك وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لحسان: أجب عني اللهم أيده بروح القدس . (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت براء سے فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے قریظہ کے دن جناب حسان ابن ثابت سے فرمایا ۱∞؎کہ مشرکین کی ہجو کرو کہ جبریل تمہارے ساتھ ہیں اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم حسان سے فرماتے تھے کہ میری طرف سے جواب دو الٰہی روح القدس سے ان کی مدد فرما ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ حسان ابن ثابت ابن منذر ابن حرام انصاری مدنی ہیں،ان چاروں کی عمر ایک سو بیس سال ہوئی،حضرت حسان نے آٹھ سال کفر میں گزارے،ساٹھ سال اسلام میں خاص شاعر اسلام ہیں،خلافت حیدری میں وفات پائی۔
۲
؎یعنی غزوہ خندق کے بعد جب حضور انور نے بنی قریظہ یہود و مدینہ کا محاصرہ فرمایا تب تو حضرت حسان سے یہ کہا کہ کفار کی ہجو کرو جبریل تمہارے ساتھ معاون ہیں،ویسے عام موقعوں پر یہ فرمایا کرتے تھے کہ الٰہی میرے حسان کی جبریل سے مددکر۔معلوم ہوا کہ مقبولوں کی تعریف کرنا نیکی ہے اور مردودوں کی ہجوکرنا نیکی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4789