Main Icon

باب:وعظ و شعر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4806

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ لِلنَّبِيِّ حَادٍ يُقَالُ لَهُ: أَنْجَشَةُ وَكَانَ حَسَنَ الصَّوْتِ. فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رُوَيْدَكَ يَا أَنْجَشَةُ لَا تَكْسِرِ الْقَوَارِيرَ . قَالَ قَتَادَةُ: يَعْنِي ضَعْفَةَ النِّسَاءِ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أنس قال: كان للنبي حاد يقال له: أنجشة وكان حسن الصوت. فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: رويدك يا أنجشة لا تكسر القوارير . قال قتادة: يعني ضعفة النساء. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کا ایک حدی خواں تھا ۱∞؎جسے انجشہ کہا جاتا تھا اور وہ تھا خوش آواز ۲؎تو اس سے نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا انجشہ چھوڑ دو کچی شیشیاں نہ توڑو،قتادہ فرماتے ہیں یعنی کمزور دل عورتیں ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎حدییاحداوہ گانا ہے جس سے اونٹ کو مستی دلا کر چلایا جاوے اونٹ گانے کا عاشق ہے جیسے سانپ خوش آواز کا،جب اونٹ تھک جاتا ہے تو خوش آوازی سے اسے گانا سنایاجاتا ہے جس سے مست ہوکر خوب تیز دوڑتا ہے اس گانے کو حدی اور گانے والے کو حاد کہتے ہیں۔حضرت انجشہ بڑے خوش آواز تھے اس لیے حدی خواں آپ ہوتے تھے۔حدی کی ابتداء کیسے ہوئی اس کے متعلق یہاں مرقات نے عجیب واقعات بیان کیے۔ایک بدوی نے اپنے غلام کو مارا اس کا ہاتھ کاٹ کھایا غلام خوش آواز تھا وہ گھبراہٹ میں بولا دی دی دی بجائے یدی یدی کے دی دی کہا اونٹ کو اس پر وجد آگیا تب سے حدی کا دستورقائم ہوا،بعض خوش الحان بدوی کے حدی پر انسانوں کو وجد آجاتا ہے۔
۲
؎انجشہ کی کنیت ابو ماریہ تھی،حبشی تھے،حضور کے آزادکردہ غلام۔
۳
؎یعنی میرے ساتھ سفر میں عورتیں بھی ہیں جنکے دل کچی شیشی کی طرح کمزور ہیں خوش آوازی ان میں بہت جلد اثر کرتی ہے اور وہ لوگوں کے گانے سے گناہ کیطرف مائل ہوسکتی ہیں اس لیے اپنا گانا بند کردو۔یہ فرمان عالی تاقیامت عورتوں کے متعلق ہے ورنہ صحابیات کے متعلق فسق وفجور کا وہم بھی نہیں کیا جاسکتا۔ مقصد یہ ہے کہ مردعورتوں کو گانا نہ سنائے اس طرح عورتیں مردوں کو گانا نہ سنائیں کہ اس سے عشق و بدمعاشی پیدا ہوتی ہے۔شعر
نہ تنہا عشق از دیدار خیزد بساکیں دولت از گفتار خیزد
بہت مرد ریڈیو پر عورتوں کے گانے سن کر ان کے عاشق ہوگئے یوں ہی عورتیں مردوں کا گانا سن کر اغوا ہوگئیں حضور کا ہر فرمان حق ہے عورت کا دل کچی شیشی کی طرح کمزور اور جلد اثر لینے والا ہوتا ہے اس لیے اسلام نے گانا بجانا حرام کیا۔بعض شارحین نے اس کے معنی کیے کہ تمہارے گانے سے اونٹ تیز دوڑیں گے جس سے عورتوں کو تکلیف ہوگی مگر یہ درست نہیں کہ تیز دوڑنے کی تکلیف مردوں کو بھی ہوسکتی ہے پھر صرف عورتوں کا ذکر کیوں ہوا پہلی توجیہ قوی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4806