Main Icon

باب:وعظ و شعر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4803

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عمْرِو بن العاصِ أَنَّهٗ قَالَ يَوْمًا وَقَامَ رَجُلٌ فَأَكْثَرَ الْقَوْلَ. فَقَالَ عَمْرٌو: لَوْ قَصَدَ فِي قَوْلِهٖ لَكَانَ خَيْرًا لَهٗ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَقَدْ رَأَيْتُ - أَوْ أُمِرْتُ - أَنْ أَتَجَوَّزَ فِي الْقَوْلِ فَإِنَّ الْجَوَازَ هُوَ خَيْرٌ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن عمرو بن العاص أنه قال يوما وقام رجل فأكثر القول. فقال عمرو: لو قصد في قوله لكان خيرا له سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لقد رأيت - أو أمرت - أن أتجوز في القول فإن الجواز هو خير . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو بن عاص سے کہ انہوں نے ایک دن فرمایا حالانکہ ایک آدمی کھڑا ہوا تو بہت باتیں کیں ۱∞؎تب حضرت عمرو نے فرمایا کہ اگر یہ اپنے کلام میں اختصارکرتا تو اچھا ہوتا ۲؎میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے سنا کہ میں مناسب سمجھتا ہوں یا مجھے حکم دیا گیا ہے کہ کلام میں اختصار کیا کروں۳؎کیونکہ مختصر کرنا بہتر ہے۴؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی بہت لمبی تقریر کی نہایت فصیح و بلیغ تاکہ لوگ اس کے کمال کے قائل ہوجاویں لوگ اس کی دراز تقریر سے گھبرا گئے اکتاگئے۔
۲
؎کہ زیادہ باتیں لوگ بھول جاتے ہیں دلوں پر اثر نہیں ہوتا بہتر یہ ہے کہ کلام تھوڑا ہو مگر دلنشیں اور مؤثر ہو۔
۳
؎ہر کلام میں خصوصًا وعظ و نصیحت میں اختصار مفید اس کا اثر زیادہ ہوتا ہےخیر الکلام ماقل و دللوگوں کو یاد خوب رہتا ہے۔
۴
؎اس حدیث کی اسناد میں محمد ابن اسماعیل ابن عباس راوی ہے اسے محدثین نے ضعیف فرمایا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4803