Main Icon

باب:وعظ و شعر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4788

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جُنْدُبٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَعْضِ الْمَشَاهِدِ وَقَدْ دَمِيَتْ أُصْبُعُهٗ فَقَالَ:هَلْ أَنْتِ إِلَّا أُصْبُعٌ دَمِيتِ وَفِي سَبِيلِ الله مَا لَقِيْتِ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن جندب: أن النبي صلى الله عليه وسلم كان في بعض المشاهد وقد دميت أصبعه فقال:هل أنت إلا أصبع دميت وفي سبيل الله ما لقيت (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جندب سے ۱∞؎کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کسی جہاد میں تھے اور آپ کی انگلی شریف خونا خون ہوگئی ۲؎تو فرمایا کہ نہیں ہے تو مگر وہ انگلی جو خونیں ہوگئی اور الله کی راہ میں تو نے یہ مشقت پائی ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ جندب ابن عبدالله ابن ابوسفیان بجلی صحابی ہیں،زمانہ ابن زبیر میں وفات پائی۔
۲
؎غالبًا غزوہ احد تھا اس غزوہ میں آپ کسی نماز کے لیے تشریف لے گئے تب انگلی میں چوٹ لگ گئی لہذا یہ حدیث نماز کے جانے کی حدیث کے خلاف نہیں۔
۳
؎اے انگلی تو صبرکر صرف تیرا خون ہی نکلا ہے جو معمولی تکلیف ہے جو کچھ تجھے تکلیف پہنچی وہ الله کی راہ میں ہے۔ما لقیتکاماموصولہ ہے یہ شعر یا تو حضور صلی الله علیہ وسلم کا اپنا ہے جو بلا قصد شعر گوئی آپ کے منہ سے صادر ہوگیا جیسے قرآن مجید کی بعض آیات شعر بن جاتی ہیں جیسے"اِنَّاۤ اَعْطَیۡنٰکَ الْکَوْثَرَ" یا جیسے"لَنۡ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا"یا یہ شعر عبدالله ابن رواحہ کا ہے آپ نے وہ پڑھا لہذا حضور انور کا شعر پڑھنا ثابت ہوا مگر لہجہ سے یا گاکر نہیں بقیہ اشعار یہ ہیں۔شعروما بنفس الی لا تقتلی تموت ھذہ حیاض الموت قد صبیت
وما تمیت فقد لقیت ان تفعل فعلھما ھدیت
(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4788