Main Icon

باب:وعظ و شعر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4786

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُصَدِّقُ كَلِمَةٍ قَالَهَا الشَّاعِرُ كَلِمَةُ لَبِيْدٍ: أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللّٰهَ بَاطِلُ ". (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أصدق كلمة قالها الشاعر كلمة لبيد: ألا كل شيء ما خلا الله باطل ". (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے نہایت ہی سچی بات جو شاعر کہے وہ لبید کی بات ہے ۱∞؎کہ یقینًا الله کے سواء ہر چیز فانی ہے ۲؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہاںکلمہسے مراد شعر ہے،لبید ابن ربیعہ عامری عرب کے مشہور شاعر ہیں،یہ اپنی قوم بنی جعفر ابن کلاب کے وفد میں حضور صلی الله علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے،حضور کے بعد کوفہ میں رہے ۴۱ھ؁∞ اکتالیس ہجری میں وفات پائی ایک سو چالیس یا ایک سو پچھتر سال عمر ہوئی،کوفہ میں ہی مزار ہے،اسلام لاکر کوئی شعر نہ کہا،فرماتے تھے کہ اب مجھے قرآن کریم کی فصاحت کافی ہے یہ وہ خوش نصیب صحابی ہیں جن کے اشعار بارگاہ رسالت میں شرف قبول پا گئے تو خود بھی مقبول ہوگئے رضی الله عنہ۔(مرقات)۲؎یہاں باطل بمعنی فانی ہے اور آیتِ کریمہ"رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلًا"میںباطلبمعنی بیکار ہے یہ کلام قرآن کریم کے خلاف نہیں لبید کے اشعار یہ ہیں۔الا کل شئی ما خلا الله باطل وکل نعیم لا محالۃ زائل
نعیمك فی الدنیا غرور وحسرۃ
وعیشك فی الدنیامحل و باطل
سوی الجنۃ الفرد و س ان نعیمھا
یبقٰی وان الموت لا بد نازل
چونکہ لبید نے یہ کلام زمانہ جاہلیت میں کہا تھا پھر قرآن کریم کی آیت کے مطابق ہوا"کُلُّ مَنْ عَلَیۡہَا فَانٍ"یا فرمان "کُلُّ شَیۡءٍ ھَالِکٌ اِلَّا وَجْہَہٗ"اس وجہ سے بارگاہِ نبوت میں بہت قبول ہوا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4786