Main Icon

باب:وعظ و شعر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4809

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيْدِ الْخُدْرِيِّ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَرْجِ إِذْ عَرَضَ شَاعِرٌ يُنْشِدُ. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خُذُوا الشَّيْطَانَ أَوْ أَمْسِكُوا الشَّيْطَانَ لِأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ رَجُلٍ قَيْحًا خَيْرٌ لَهٗ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي سعيد الخدري قال: بينا نحن نسير مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بالعرج إذ عرض شاعر ينشد. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: خذوا الشيطان أو أمسكوا الشيطان لأن يمتلئ جوف رجل قيحا خير له من أن يمتلئ شعرا . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں اس حال میں کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ مقام عرج میں چل رہے تھے ۱∞؎کہ ایک شاعر شعر پڑھتا سامنے آیا تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا پکڑ لو شیطان کو یا روک لو شیطان کو ۲؎کسی شخص کا پیٹ پیپ سے بھرا ہوا اس کے لیے اس سے اچھا ہے کہ شعروں سے بھرا ہو ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎عرج یمن کا ایک شہر بھی ہے،علاقہ ہذیل میں ایک میدان بھی،مکہ معظمہ کے راستہ میں ایک منزل بھی، مدینہ منورہ سے ۷۸ اٹھتر میل پر،یہاں یہ تیسرے معنی مراد ہیں۔
۲
؎یعنی یہ شاعر انسان شیطان ہے اسے شعر پڑھنے سے روک دو۔شاید اس کی اشعار گندے واہیات تھے جن میں زنا،شراب، عورتوں کی تعریفیں تھیں جیساکہ جاہلیت کے شعراء کے کلام میں دیکھاجاتا ہے اس لیے روک دیا گیا۔
۳
؎اس کی شرح پہلے عرض کی گئی کہ یا برے اشعار مراد ہیں یا اشعار کا طبیعت پر غلبہ کہ اسے گانے کے سواء کچھ سوجھے ہی نہیں اس لیے ارشاد ہوان یمتلی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4809