Main Icon

باب:وعظ و شعر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4811

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي طَرِيقٍ فَسَمِعَ مِزْمَارًا فَوَضَعَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ وَنَاءَ عَنْ الطَّرِيقِ إِلَى الْجَانِبِ الْآخَرِ ثُمَّ قَالَ لِي بَعْدَ أَنْ بَعُدَ: يَا نَافِعُ هَلْ تَسْمَعُ شَيْئًا؟ قُلْتُ: لَا فَرَفَعَ اِصْبَعَيْهِ عَنْ أُذُنَيْهِ قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَ صَوْتَ يَرَاعٍ فَصَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعْتُ. قَالَ نَافِعٌ: فَكُنْتُ إِذْ ذَاكَ صَغِيرًا. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْدَاوُدَ

وعن نافع قال: كنت مع ابن عمر في طريق فسمع مزمارا فوضع أصبعيه في أذنيه وناء عن الطريق إلى الجانب الآخر ثم قال لي بعد أن بعد: يا نافع هل تسمع شيئا؟ قلت: لا فرفع اصبعيه عن أذنيه قال: كنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فسمع صوت يراع فصنع مثل ما صنعت. قال نافع: فكنت إذ ذاك صغيرا. رواه أحمد وأبوداود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت نافع سے فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر کے ساتھ ایک راستہ میں تھا کہ آپ نے باجہ کی آواز سنی ۱∞؎تو اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں لگالیں اور راستہ سے دور ہٹ گئے دوسری طرف پھر دور جا چکنے کے بعد مجھ سے فرمایا کہ اے نافع کیا تم کچھ سن رہے ہو میں نے کہا نہیں تب آپ نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں سے نکالیں۲؎فرمایا میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ تھا تو حضور نے بانسی کی آواز سنی ۳؎تو یونہی کیا جو میں نے کیا،نافع فرماتے ہیں کہ اس وقت میں چھوٹا تھا۴؎(احمد،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی صرف باجہ کی آواز سنی بغیر گانے کی آواز کے غالبًا گانا بھی ہورہا ہوگا اس کی آوا زیہاں نہیں آرہی ہوگی، ڈھول کی آواز دور تک جاتی ہے گانے والے کی آواز تھوڑی دور ہی پہنچتی ہے۔
۲
؎یہ آپ کا انتہائی تقویٰ ہے جس پر عمل آج کل قریبًا ناممکن ہے آج ریڈیو لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ بستی کے گوشہ گوشہ میں گانے باجوں کی تیز آوازیں پہنچتی ہیں کبھی تو لوگوں کو سونے نہیں دیتیں۔
۳
؎یراعی اور ر کے فتحہ سے بمعنیالغوزہیا بانسلی بانس کے ٹکڑے میں چند سوراخ کر کے اسے منہ سے بجاتے ہیں۔
۴
؎یہ ایک شبہ کا جواب ہے کہ سیدنا عبدالله ابن عمر نے خود تو کانوں میں انگلیاں دے لیں تاکہ گانے باجے کی آواز نہ سنیں مگر اپنے غلام حضرت نافع کو اس کا حکم نہ دیا اس کی وجہ کیا ہے،جواب یہ دیا کہ میں اس وقت نابالغ بچہ تھا مجھ پر احکام شرعیہ خصوصًا ورع و تقویٰ کے احکام جاری نہ تھے ورنہ مجھے بھی آپ اس کا حکم دیتے۔غالبًا حضرت عبدالله ابن عمر بھی حضور صلی الله علیہ وسلم کے اس واقعہ پر نابالغ ہوں گے۔خیال رہے کہ ان دونوں موقعوں پر گانے باجہ والا آدمی کوئی غیر مسلم ذمی ہوگا اس لیے آپ نے اسے گانے سے نہ روکا خود کانوں میں انگلی دے لی کہ کفار کو ان جیسے کاموں سے مسلمان نہیں روکتے۔ (مرقات)لہذا حدیث پر نہ تو یہ اعتراض ہے کہ حضرات صحابہ کے گھروں سے گانے باجوں کی آوازیں آتی تھیں نہ یہ کہ حضرت ابن عمر نے گانے والوں کو منع کیوں نہ فرمایا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4811