Main Icon

باب:وعظ و شعر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4791

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِحَسَّانَ: إِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ لَا يَزَالُ يُؤَيِّدُكَ مَا نَافَحْتَ عَنْ اللّٰهِ وَرَسُوله . سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: هَجَاهُمْ حَسَّانُ فَشَفٰى وَاشْتَفٰى . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعنها قالت: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لحسان: إن روح القدس لا يزال يؤيدك ما نافحت عن الله ورسوله . سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: هجاهم حسان فشفى واشتفى . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتی ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو حسان سے فرماتے سنا کہ روح القدس تمہاری تائید کرتے رہتے ہیں جب تک کہ تم الله رسول کی طرف سے دفاع کرتے ہو ۱∞؎اور فرماتی ہیں کہ میں نے رسول صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ حسان نے ان کفار کی ہجو کی تو شفا دی اور شفا پائی۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ کفار اسلام مسلمانوں بلکہ خود حضور صلی الله علیہ وسلم کی شان اقدس میں بکواس کرتے تھے تو حضرت حسان رضی الله عنہ جوابًا کفار ان کے دین ان کے بتوں کی ہجو اشعار میں کرتے تھے،حضور اس کے متعلق حضرت حسان کو بشارت دے رہے ہیں کہ جب تم ہجو کے اشعار لکھنے لگتے ہو تو جناب جبریل تمہارے دل میں اچھے مضمون ڈالتے ہیں تمہاری زبان پر اچھے الفاظ جمع فرماتے ہیں اور تم کو دعائیں دیتے تمہارا احترام کرتے ہیں یہ ہے حضرت جبریل کی مدد۔معلوم ہوا کہ دشمنان دین کی ہجو اعلیٰ درجہ کی عبادت ہے،بعض وقت قصیدے جہاد میں بڑی مدد دیتے ہیں۔ستمبر ۱۹۶۵ء؁∞ کے جہاد پاکستان میں اسے خوب اچھی طرح آزمایا ہے ریڈیو پاکستان نے اس قسم کے قصیدوں کے ذریعہ غازیوں بلکہ سارے پاکستانیوں کو گرما دیا جس کا نتیجہ بہت ہی اچھا رہا۔
۲
؎یعنی پہلے کفارقریش نے مسلمانوں کی ہجو کی جس سے مسلمانوں کے دل زخمی ہوگئے،حضرت حسان نے ان سے بدلہ لیتے ہوئے کفار کی ہجو کی مسلمانوں کے زخموں پر گویا مرہم رکھ دیا ان کے اشعار مرہم زخم دل ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4791