Main Icon

باب:وعظ و شعر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4790

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اُهْجُوْا قُرَيْشًا فَإِنَّهٗ أَشَدُّ عَلَيْهِمْ مِنْ رَشْقِ النَّبْلِ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: اهجوا قريشا فإنه أشد عليهم من رشق النبل . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ قریش کی ہجو کرو کہ یہ ان پر تیر کے مارنے سے زیادہ سخت ہے ۱∞؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں قریش سے مراد ان کے کفار حربی ہیں جو نہ ذمی تھے نہ مستامن جن پر جہاد جائز تھا۔اس سے معلوم ہوا کہ ہجو زبانی جہاد ہے جس سے دشمن کے دل زخمی ہوتے ہیں انکی ہمت ٹوٹتی ہے،جس پر تلوار کا جہاد جائز ہے اس کی ہجوبھی جائز ہے لہذا ذمی اور مستامن اور جن کفار سے ہماری صلح ہوچکی ہو انکی ہجو نہ کی جاوے،رب تعالیٰ فرماتاہے:"جَاھِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِیۡنَ وَاغْلُظْ عَلَیۡہِمْ"یہ ہجو شدت و غلظت میں داخل ہے،بعض شارحین نے فرمایا کہ مسلمان جوابًا ہجو کریں ابتداءً نہ کریں۔ (مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4790