Main Icon

باب:وعظ و شعر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4792

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْبَرَّاءِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقُلُ التُّرَابَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ حَتّٰى اِغْبَرَّ بَطْنُهٗ يَقُولُ:وَاللّٰهِ لَوْلَا اللّٰهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَافَأَنْزِلَنْ سَكِيْنَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا إِنَّ الأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهٗ: أَبَيْنَا أَبَيْنَا .(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن البراء قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينقل التراب يوم الخندق حتى اغبر بطنه يقول:والله لولا الله ما اهتدينا ولا تصدقنا ولا صلينافأنزلن سكينة علينا وثبت الأقدام إن لاقينا إن الألى قد بغوا علينا إذا أرادوا فتنة أبينا يرفع بها صوته: أبينا أبينا .(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت براء سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم خندق کے دن مٹی ہٹا رہے تھے حتی کہ آپ کا پیٹ غبار آلود ہوگیا ۱∞؎فرماتے تھے رب کی قسم اگر الله نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے۲؎نہ صدقہ کرتے نہ نماز پڑھتے۳؎تو ہم پرسکون اتار اور اگر ہم دشمن سے مڈھ بھیڑ کریں تو ہم کو ثابت قدم رکھ۴؎یقینًا ان کفار نے ہم پر زیادتی کی ۵؎جب انہوں نے فتنہ کا ارادہ کیا تو ہم نے انکارکردیا ۶؎اس پر اپنی آواز بلند فرماتے تھےابینا۔(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎جب کفارعرب نے مل کر مدینہ طیبہ پر یلغار کرنی چاہی تو حضور انور نے مدینہ کے گرد خندق کھودنے کا حکم دیا اور خودبھی اس کام میں شرکت فرمائی اور سرکار عالی مٹی ڈھوتے جاتے تھے اور یہ اشعار پڑھتے جاتے تھے۔
۲
؎یعنی ہماری ہدایت ایمان اور ہدایت اعمال محض تیرے فضل و کرم سے ہے۔لولا اللهکے معنی ہیںلولا فضل اللهاگر الله کا فضل و کرم نہ ہوتا۔اس میں اشارہ ہے اس آیت کریمہ کیطرف"وَمَاکُنَّا لِنَہۡتَدِیَ لَوْلَاۤ اَنْ ھَدٰىنَا اللّٰهُ
۳
؎چونکہ نماز و صدقہ دیگر نیکیوں سے افضل ہیں اس لیے ان کا ذکر خصوصیت سے فرمایا،اھتدینامیں یہ دونوں آگئے تھے۔
۴
؎اس دعا میں اس آیت کی طرف اشارہ ہے"وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانۡصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیۡنَ"۔یعنی اے مولٰی اگر کفار سے ہماری جنگ ہوجاوے تو ہم کو جہاد میں ثابت قدم رکھ کہ ہمارے پاؤں ان کے مقابلہ میں اکھڑ نہ جائیں۔
۵
؎الاولیمخفف ہےاولئكکا یااولاءکا اسم اشارہ ہے۔اس سے اشارہ ہے کفار عرب کی طرف اور ان کے ظلم کی جانب خصوصًا ان کفار کی طرف جو اس وقت ساری قوتیں جمع کرکے مدینہ منورہ پر ٹوٹ پڑنا چاہتے تھے۔
۶
؎یہاں فتنہ سے مراد اسلام سے پھیر دینا،کفر،قتل و غارت میں مشغول کردینا یعنی ان کفار نے چاہا کہ ہم اسلام کے بعد پھر کفر،قتل،ڈکیتی وغیرہ کریں۔اس فرمان میں اس آیتِ کریمہ کی طرف اشارہ ہے"وَدُّوۡا لَوْ تَکْفُرُوۡنَ"۔غالب یہ ہے کہ اشعار خود حضور انور صلی الله علیہ وسلم کے ہیں جو بے ساختہ منہ مبارک سے نکل رہے ہیں بغیر قصدوارادے کے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4792