Main Icon

باب: امان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3977

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ قَالَتْ: ذَهَبْتُ إِلَى رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ، فَوَجَدْتُهٗ يَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ ابْنتُهٗ تَسْتُرُهٗ بِثَوْبٍ، فَسَلَّمْتُ فَقَالَ: "مَنْ هٰذِهٖ؟ " فَقُلْتُ: أَنَا أُمُّ هَانِئٍ بنْتُ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ: "مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ"، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهٖ قَامَ فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَقُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! زَعَمَ ابْنُ أُمِّي عَلِيٌّ أَنَّهٗ قَاتِلٌ رَجُلًا أَجَزتُهٗ فُلَانَ ابنَ هُبَيرَةَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ". قَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ:وَذٰلِكَ ضُحًى. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلتِّرْمِذِيِّ: قَالَتْ: أَجَرْتُ رَجُلَيْنِ مِنْ أَحْمَائِي فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "قَدْ أمَّنَّا مَنْ أمَّنْتِ".

عن أم هانئ بنت أبي طالب قالت: ذهبت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الفتح، فوجدته يغتسل وفاطمة ابنته تستره بثوب، فسلمت فقال: "من هذه؟ " فقلت: أنا أم هانئ بنت أبي طالب، فقال: "مرحبا بأم هانئ"، فلما فرغ من غسله قام فصلى ثماني ركعات ملتحفا في ثوب، ثم انصرف فقلت: يا رسول الله! زعم ابن أمي علي أنه قاتل رجلا أجزته فلان ابن هبيرة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "قد أجرنا من أجرت يا أم هانئ". قالت أم هانئ:وذلك ضحى. متفق عليه. وفي رواية للترمذي: قالت: أجرت رجلين من أحمائي فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "قد أمنا من أمنت".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام ہانی بنت ابی طالب سے ۱؎فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں فتح کے سال گئی ۲؎تو میں نے آپ کو غسل کرتے پایا اور آپ کی بیٹی فاطمہ آپ پر کپڑے سے آڑ کیے تھیں۳؎تو میں نے سلام کیا ۴؎فرمایا یہ کون ہیں میں نے کہا ام ہانی بنت ابو طالب،فرمایا ام ہانی خوب آئیں ۵؎پھر جب اپنے غسل سے فارغ ہوگئے تو کھڑے ہوئے ایک کپڑے میں لپیٹے ہوئے آٹھ رکعتیں پڑھیں ۶؎پھر فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا یارسول اللہ میرے ماں جائے علی کہتے ہیں ۷؎کہ وہ اس شخص کو قتل کریں گے جسے میں امان دے چکی ہوں ھبیرہ کا بیٹا فلاں ۸؎تو رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے ام ہانی جسے تم نے امان دے دی اسے ہم نے بھی امان دے دی ۹؎ام ہانی فرماتی ہیں کہ یہ چاشت کا وقت تھا۔(مسلم،بخاری) اور ترمذی کی روایت میں ہے کہ فرماتی ہیں میں نے اپنے دیوروں میں سے دوشخصوں کو امان دے دی تھی۱۰؎تو رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ہم نے اسے امان دے دی جسے تم نے امان دے دی۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام فاختہ یا عائلہ ہے،ابو طالب کی بیٹی جناب علی مرتضٰی کی بہن حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی چچا زاد ہیں، انہی کے گھر سے حضور کو معراج ہوئی،فتح مکہ کے دن ایمان لائیں،امیر معاویہ کے زمانہ میں ۵۱ھ؁ ∞ اکیاون میں وفات پائی،آپ سے حضرت علی و عباس اور بہت تابعین نے روایت کی۔(اشعہ)
۲
؎یعنی خاص فتح مکہ کے دن جب حضور انور سب کو امان دے کر فارغ ہو چکے تھے غسل فرمارہے تھے۔
۳
؎اس طرح کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم تہبند شریف باندھ کر غسل فرمارہے تھے،چونکہ غسل خانہ میں نہ تھے اس لیے جناب فاطمہ کپڑا تانے سامنے کھڑی تھیں،یہ کپڑا غسل خانہ کی دیوار کی طرح آڑ کا کام دے رہا تھا،غسل خانہ میں بھی تہبند باندھ کر غسل کرنا چاہیے۔
۴
؎حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو یا فاطمہ زہرا کو کیونکہ جو تہبند باندھے غسل کررہا ہو اسے سلام کرنا جائز ہے،ہاں ننگے بدن نہانے والے کو سلام نہ کرے کہ ننگا آدمی جواب سلام نہیں دے سکتا اس لیے پیشاب پاخانہ استنجاء کرنے والے کو سلام کرنا منع ہے کہ وہ ننگا ہے۔
۵
؎معلوم ہوا کہ غسل کی حالت میں کلام کرسکتے ہیں،وضو کرتے ہوئے دنیاوی کلام،سلام جواب سلام سب ممنوع ہیں صرف دعائیں پڑھے۔ ہرغسل کا یہ ہی حکم ہے جنابت کا غسل ہو یا کوئی اور،یہ بھی معلوم ہوا کہ آنے والے پیارے کی آمد پر اظہار خوشی کے کلمات کہنا سنت ہے۔
۶
؎نماز چاشت جیسا کہ ترمذی نے شمائل شریف میں فرمایا۔ ایک کپڑے میں نماز کے احکامکتاب الصلوۃباب السترمیں گزر گئے۔
۷
؎حضرت علی جناب ام ہانی کے سگے بھائی ہیں مگر صرف ماں کا ذکر فرمایا اظہار محبت کے لیے جیسا ہارون علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا ابن ام۔
۸
؎ہبیرہ ابن وھب ابن عمرو ابن عائذ ابن عمران ابن مخزوم جناب ام ہانی کے خاوند ہیں۔اس فلاں کا نام معلوم نہ ہوسکا یعنی میں نے اپنے خاوند کے بیٹے کو جو میرے پیٹ سے ہیں یا ان کی دوسری بیوی کے پیٹ سے ہیں امان دے دی مگر علی اس کی تلاش میں ہیں قتل کرنے کے لیے۔خیال رہے کہ جناب ام ہانی کے اسلام لانے پر ہبیرہ سے آپ کی جدائی ہوگئی۔بعض شارحین نے فرمایا کہ اس فلاں کا نام حارث ابن ہشام ابن مغیرہ ابن عبدالملک ابن عبدابن عمرو ابن مخزوم ہے۔مگر پہلی روایت قوی ہے کہ وہ شخص ہبیرہ کا بیٹا ہے ام ہانی کا سگا یا سوتیلا بیٹا۔(دیکھو مرقات اور اشعۃ اللمعات)حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ غسل یا تو خود ام ہانی کے گھر تھا یا حضرت علی کے گھر یا کسی اور جگہ،بعض روایات میں ہے کہ فرماتی ہیں حضور نے میرے گھر میں غسل فرمایا۔
۹
؎یعنی تمہاری امان ہماری ا مان ہے۔حضرت علی اسے قتل نہیں کریں گے۔
۱۰
؎یہ دونوں شخص جو حضرت ام ہانی کے دیور ہیں ایک تو عبدابن ابی ربیعہ ابن مغیرہ ہیں دوسرے حارث ابن ہشام ابن مغیرہ ہیں دونوں مخزومی ہیں۔ان دونوں روایتوں میں کوئی مخالف نہیں۔ جناب ام ہانی نے ان دونوں کو بھی امان دی تھی اور ہبیرہ کے بیٹے کو بھی حضور انور نے سب کی امان برقرار رکھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3977