- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- جہاد کا بیان
- حدیث نمبر 3977
باب: امان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3977
جہاد کا بیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ قَالَتْ: ذَهَبْتُ إِلَى رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ، فَوَجَدْتُهٗ يَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ ابْنتُهٗ تَسْتُرُهٗ بِثَوْبٍ، فَسَلَّمْتُ فَقَالَ: "مَنْ هٰذِهٖ؟ " فَقُلْتُ: أَنَا أُمُّ هَانِئٍ بنْتُ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ: "مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ"، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهٖ قَامَ فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَقُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! زَعَمَ ابْنُ أُمِّي عَلِيٌّ أَنَّهٗ قَاتِلٌ رَجُلًا أَجَزتُهٗ فُلَانَ ابنَ هُبَيرَةَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ". قَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ:وَذٰلِكَ ضُحًى. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلتِّرْمِذِيِّ: قَالَتْ: أَجَرْتُ رَجُلَيْنِ مِنْ أَحْمَائِي فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "قَدْ أمَّنَّا مَنْ أمَّنْتِ".
عن أم هانئ بنت أبي طالب قالت: ذهبت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الفتح، فوجدته يغتسل وفاطمة ابنته تستره بثوب، فسلمت فقال: "من هذه؟ " فقلت: أنا أم هانئ بنت أبي طالب، فقال: "مرحبا بأم هانئ"، فلما فرغ من غسله قام فصلى ثماني ركعات ملتحفا في ثوب، ثم انصرف فقلت: يا رسول الله! زعم ابن أمي علي أنه قاتل رجلا أجزته فلان ابن هبيرة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "قد أجرنا من أجرت يا أم هانئ". قالت أم هانئ:وذلك ضحى. متفق عليه. وفي رواية للترمذي: قالت: أجرت رجلين من أحمائي فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "قد أمنا من أمنت".
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ام ہانی بنت ابی طالب سے ۱؎فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں فتح کے سال گئی ۲؎تو میں نے آپ کو غسل کرتے پایا اور آپ کی بیٹی فاطمہ آپ پر کپڑے سے آڑ کیے تھیں۳؎تو میں نے سلام کیا ۴؎فرمایا یہ کون ہیں میں نے کہا ام ہانی بنت ابو طالب،فرمایا ام ہانی خوب آئیں ۵؎پھر جب اپنے غسل سے فارغ ہوگئے تو کھڑے ہوئے ایک کپڑے میں لپیٹے ہوئے آٹھ رکعتیں پڑھیں ۶؎پھر فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا یارسول اللہ میرے ماں جائے علی کہتے ہیں ۷؎کہ وہ اس شخص کو قتل کریں گے جسے میں امان دے چکی ہوں ھبیرہ کا بیٹا فلاں ۸؎تو رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے ام ہانی جسے تم نے امان دے دی اسے ہم نے بھی امان دے دی ۹؎ام ہانی فرماتی ہیں کہ یہ چاشت کا وقت تھا۔(مسلم،بخاری) اور ترمذی کی روایت میں ہے کہ فرماتی ہیں میں نے اپنے دیوروں میں سے دوشخصوں کو امان دے دی تھی۱۰؎تو رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ہم نے اسے امان دے دی جسے تم نے امان دے دی۔
شرح حدیث
۱∞؎آپ کا نام فاختہ یا عائلہ ہے،ابو طالب کی بیٹی جناب علی مرتضٰی کی بہن حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی چچا زاد ہیں، انہی کے گھر سے حضور کو معراج ہوئی،فتح مکہ کے دن ایمان لائیں،امیر معاویہ کے زمانہ میں ۵۱ھ ∞ اکیاون میں وفات پائی،آپ سے حضرت علی و عباس اور بہت تابعین نے روایت کی۔(اشعہ)
۲؎یعنی خاص فتح مکہ کے دن جب حضور انور سب کو امان دے کر فارغ ہو چکے تھے غسل فرمارہے تھے۔
۳؎اس طرح کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم تہبند شریف باندھ کر غسل فرمارہے تھے،چونکہ غسل خانہ میں نہ تھے اس لیے جناب فاطمہ کپڑا تانے سامنے کھڑی تھیں،یہ کپڑا غسل خانہ کی دیوار کی طرح آڑ کا کام دے رہا تھا،غسل خانہ میں بھی تہبند باندھ کر غسل کرنا چاہیے۔
۴؎حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو یا فاطمہ زہرا کو کیونکہ جو تہبند باندھے غسل کررہا ہو اسے سلام کرنا جائز ہے،ہاں ننگے بدن نہانے والے کو سلام نہ کرے کہ ننگا آدمی جواب سلام نہیں دے سکتا اس لیے پیشاب پاخانہ استنجاء کرنے والے کو سلام کرنا منع ہے کہ وہ ننگا ہے۔
۵؎معلوم ہوا کہ غسل کی حالت میں کلام کرسکتے ہیں،وضو کرتے ہوئے دنیاوی کلام،سلام جواب سلام سب ممنوع ہیں صرف دعائیں پڑھے۔ ہرغسل کا یہ ہی حکم ہے جنابت کا غسل ہو یا کوئی اور،یہ بھی معلوم ہوا کہ آنے والے پیارے کی آمد پر اظہار خوشی کے کلمات کہنا سنت ہے۔
۶؎نماز چاشت جیسا کہ ترمذی نے شمائل شریف میں فرمایا۔ ایک کپڑے میں نماز کے احکامکتاب الصلوۃباب السترمیں گزر گئے۔
۷؎حضرت علی جناب ام ہانی کے سگے بھائی ہیں مگر صرف ماں کا ذکر فرمایا اظہار محبت کے لیے جیسا ہارون علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا ابن ام۔
۸؎ہبیرہ ابن وھب ابن عمرو ابن عائذ ابن عمران ابن مخزوم جناب ام ہانی کے خاوند ہیں۔اس فلاں کا نام معلوم نہ ہوسکا یعنی میں نے اپنے خاوند کے بیٹے کو جو میرے پیٹ سے ہیں یا ان کی دوسری بیوی کے پیٹ سے ہیں امان دے دی مگر علی اس کی تلاش میں ہیں قتل کرنے کے لیے۔خیال رہے کہ جناب ام ہانی کے اسلام لانے پر ہبیرہ سے آپ کی جدائی ہوگئی۔بعض شارحین نے فرمایا کہ اس فلاں کا نام حارث ابن ہشام ابن مغیرہ ابن عبدالملک ابن عبدﷲابن عمرو ابن مخزوم ہے۔مگر پہلی روایت قوی ہے کہ وہ شخص ہبیرہ کا بیٹا ہے ام ہانی کا سگا یا سوتیلا بیٹا۔(دیکھو مرقات اور اشعۃ اللمعات)حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ غسل یا تو خود ام ہانی کے گھر تھا یا حضرت علی کے گھر یا کسی اور جگہ،بعض روایات میں ہے کہ فرماتی ہیں حضور نے میرے گھر میں غسل فرمایا۔
۹؎یعنی تمہاری امان ہماری ا مان ہے۔حضرت علی اسے قتل نہیں کریں گے۔
۱۰؎یہ دونوں شخص جو حضرت ام ہانی کے دیور ہیں ایک تو عبدﷲابن ابی ربیعہ ابن مغیرہ ہیں دوسرے حارث ابن ہشام ابن مغیرہ ہیں دونوں مخزومی ہیں۔ان دونوں روایتوں میں کوئی مخالف نہیں۔ جناب ام ہانی نے ان دونوں کو بھی امان دی تھی اور ہبیرہ کے بیٹے کو بھی حضور انور نے سب کی امان برقرار رکھی۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3977