Main Icon

باب: امان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3981

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: بعثَني قُرَيْشٌ إِلَى رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُلقِيَ فِي قَلْبِيَ الإِسْلَامُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! إِنِّي وَاللّٰهِ لَا أَرْجِعُ إِلَيْهِمْ أَبَدًا. قَالَ: "إِنِّي لَا أَخِيسُ بِالْعَهْدِ وَلَا أَحْبِسُ الْبُرُدَ،وَلٰكِنِ ارْجِعْ فَإِنْ كَانَ فِي نَفْسِكَ الَّذِي فِي نَفْسِكَ الآنَ فَارْجِعْ". قَالَ: فَذَهَبْتُ ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمْتُ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن أبي رافع قال: بعثني قريش إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم ألقي في قلبي الإسلام، فقلت: يا رسول الله! إني والله لا أرجع إليهم أبدا. قال: "إني لا أخيس بالعهد ولا أحبس البرد،ولكن ارجع فإن كان في نفسك الذي في نفسك الآن فارجع". قال: فذهبت ثم أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فأسلمت. رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو رافع سے ۱؎فرماتے ہیں مجھے قریش نے رسولصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں بھیجا ۲؎تو جب میں نے رسولصلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا تو میرے دل میں اسلام ڈال دیا گیا۳؎تو میں نے عرض کیا یارسولخدا کی قسم میں تو اب ان کی طرف کبھی نہ لوٹوں گا۴؎تو فرمایا کہ ہم نہ تو عہد توڑتے ہیں اور نہ قاصدوں کو روکتے ہیں ۵؎لیکن تم ابھی واپس جاؤ پھر اگر تمہارے دل میں وہ رہے جو اب ہے تو واپس آجانا۶؎فرماتے ہیں کہ میں چلا گیا پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا مسلمان ہوگیا ۷؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام شریف اسلم ہے،آپ پہلے سیدنا عباس کے غلام تھے، انہوں نے حضور کو بطور ہدیہ پیش فرما دیا تو آپ حضور انور کے غلام ہوگئے پھر آپ نے ہی حضرت عباس کے ایمان لانے کی خبر حضور انور کو دی۔حضور نے اس خبر لانے کی خوشی میں انہیں آزاد کردیا۔تعالٰی مجھے ابو رافع حبشی کے غلاموں میں حشر نصیب کرے۔شعر
جو بندہ تمہارا وہ بندہ خدا کا جو بندہ خدا کا وہ بندہ تمہارا
آپ بہت ہی خوش نصیب صحابی ہیں،آپ قبطی النسل ہیں۔(اشعہ،و مرقات ولمعات)
۲
؎صلح حدیبیہ کے دن کفار نے مجھے اپنا نمائندہ بنا کر حضور انور کی خدمت میں بھیجا جب کہ حضور حدود حرم میں حدیبیہ کے میدان میں مع جماعت صحابہ کے جلوہ افروز تھے۔مرقات نے یہاں فرمایا کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ابو رافع وہ نہیں ہیں جو حضور کے آزادکردہ غلام ہیں وہ تو بدر سے پہلے ہی اسلام لاچکے تھے،اب حدیبیہ میں ان کا کفار مکہ کی طرف سے صلح کا نمائندہ بن کر آنا کیسا یہ کوئی اور ابو رافع ہیں۔واﷲ اعلم!۳؎حضور کا چہرہ پاک خود معجزہ تھا کہ ذی ہوش آدمی صرف دیکھ کر ہی ایمان لے آتا حضرت عبدابن سلام کا بھی یہ ہی واقعہ ہوا کہ چہرہ انور دیکھتے ہی ان کے دل میں ایمان آگیا۔
دیئے معجزے انبیاء کو خدا نے ہمارا نبی معجزہ بن کے آیا
۴
؎یعنی ایمان بھی نصیب ہوگیا اور وطن بال بچوں،مال و متاع سے محبت ایک دم جاتی رہی۔اس لیے دیس چھوڑ پردیس میں جانے،گھر بار اولاد چھوڑ کرحضور کے پاس بس جانے کے لیے تیار ہوگئے۔گنہگار احمد یار اپنا تجربہ عرض کرتا ہے کہ جب یہ فقیر جناب آمنہ رضی اللہ عنہا کے مزار پر انوار پر حاضر ہوا تو دل چاہتا تھا کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑکر یہاں قبر شریف پر فقیر مجاور بن کر بیٹھ جاؤں یہ کشش بھی ان حضرات کا زندہ جاوید معجزہ و کرامت ہے،جناب آمنہ رضی اللہ عنہا کے مزار شریف میں بہت ہی کشش ہے جو بیان نہیں ہوسکتی۔
۵
؎اخیسبنا ہےخیسسے بمعنی غدر یا عہد شکنی یعنی وعدہ خلافی کرنا اورکسی قاصد کو اپنے ہاں روک لینا ہماری شان نہیں کہ یہ بھی عہد شکنی ہی ہے۔بردجمع ہےبریدکی بمعنی ڈاکیہ اور قاصد۔تم جیسے ان کا پیغام لے کر ہمارے پاس آئے ہو ویسے ہی ہمارا جواب لے کر ان کے پاس جاؤ۔
۶
؎یعنی وہ وارفتگی جو تمہارے دل میں اب ہے اگر مکہ معظمہ پہنچ جانے ہمارا جواب سنانے کے بعد بھی رہے تو چلے آنا۔خیال رہے کہ حضور انور نے ان کا اسلام تو قبول فرمالیا مگر اس وقت ہجرت کی اجازت نہ دی جس کی وجہ خود بیان فرمادی لہذا یہ حدیث فقہاء کے اس قول کے خلاف نہیں کہ جو مسلمان ہونا چاہے اسے ٹالو نہیں بلکہ فورًا مسلمان کرلو اس لیے حضور نے یہ فرمایا کہ ابھی مسلمان نہ بنو واپسی پر بننا،نیز حضور نے اس وقت انہیں اپنا اسلام ظاہر کرنے سے منع فرمایا تاکہ کفار مکہ کے شر سے محفوظ رہیں۔
۷
؎یا حدیبیہ میں ہی صلح نامہ کی تحریر سے پہلے یا کچھ عرصہ بعد مدینہ منورہ میں پہنچ کر مسلمان ہوگیا کے معنی یہ ہیں کہ میں نے اپنا اسلام ظاہر کردیا علانیہ مسلمان ہوگیا،مرقات نے یہ ہی توجیہ فرمائی،لہذا حدیث بالکل واضح ہے کہ اسلامی قانون کے خلاف نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3981