Main Icon

باب: امان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3984

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: جَاءَ ابْنُ النَّوَّاحَةِ وَابْنُ أُثَالٍ رَسُوْلا مُسَيْلِمَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمَا: "أَتَشْهَدَانِ أَنِّي رَسُوْلُ اللّٰهِ؟ " فَقَالَا: نَشْهَدُ أَنَّ مُسَيْلِمَةَ رَسُوْلُ اللّٰهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "آمَنْتُ بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ، وَلَوْ كُنْتُ قَاتِلًا رَسُوْلًا لَقَتَلْتُكُمَا". قَالَ عَبْدُ اللّٰهِ: فَمَضَتِ السُّنَّةُ أَنَّ الرَّسُوْلَ لَا يُقْتَلُ. رَوَاهُ أَحْمدُ.

عن ابن مسعود قال: جاء ابن النواحة وابن أثال رسولا مسيلمة إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال لهما: "أتشهدان أني رسول الله؟ " فقالا: نشهد أن مسيلمة رسول الله، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "آمنت بالله ورسوله ، ولو كنت قاتلا رسولا لقتلتكما". قال عبد الله: فمضت السنة أن الرسول لا يقتل. رواه أحمد.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ ابن نواحہ اور ابن اثال مسیلمہ کذاب کے قاصد نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آئے ۱؎تو حضور نے ان سے فرمایا کہ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میںکا رسول ہوں ۲؎تو وہ بولے کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ مسیلمہکا رسول ہے۳؎تب نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میںاوراس کے رسول پر ایمان لایا۴؎اور اگر میں قاصد کو قتل کرتا ہوتا تو تم کو قتل کردیتا ۵؎عبدکہتے ہیں کہ پھر طریقہ جاری ہوگیا کہ قاصد کو قتل نہ کیا جائے ۶؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎ایلچی بن کر کوئی پیغام لے کر،مسیلمہ کذاب نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے براہ راست منہ در منہ بھی گفتگو کی ہے اور ایلچیوں کے واسطے سے بھی۔چنانچہ ایک بار اس نے حضور انور سے مشافتہً عرض کیا تھا کہ اگر آپ اپنے بعد خلافت میرے لیے تحریر فرمادیں تو میں آپ سے صلح کرلوں یعنی نبوت چھوڑ دوں۔حضور انور کے ہاتھ شریف میں ایک سبز مسواک تھی آپ نے فرمایا کہ اگر تو یہ سبز مسواک بھی مجھ سے مانگے تو تجھ کو نہ دوں گا اور تیرا جو انجام ہونے والا ہے وہ مجھے خواب میں دکھادیا گیا ہے،یہ اسی کی عرض و معروض وہ ہے جو قاصد پیغامبر کے ذریعے سے اس نے کی اس کا ذکر ابھی پچھلی حدیث میں گزرچکا۔
۲
؎یا تو حضور انور نے تبلیغ اسلام کرتے ہوئے یہ فرمایا یا کوئی معجزہ دکھا کر یہ ارشاد کیا۔بہرحال اس سے معلوم ہوا کہ کافر ایلچی کو تبلیغ اسلام کرنا جائز ہے۔
۳
؎یعنینعوذباﷲآپکے رسول نہیں بلکہ مسیلمہکا رسول ہے یا آپ بھیکے رسول ہیں اور مسیلمہ بھیکا رسول ہے۔آپ خاتم النبیین نہیں آپ کے زمانہ میں اور رسول بھی ہوسکتے ہیں۔پہلی صورت میں وہ کافر اصلی ہیں،دوسری صورت میں وہ دونوں موجودہ قادیانیوں کی طرح مرتد ہیں کیونکہ اسلامی کلمہ گو گمراہ فرقے جن کی گمراہی حد کفر تک پہنچ جاوے وہ مرتدین ہوتے ہیں اس لیے حضرت ابوبکر صدیق نے منکرین زکوۃ اور مسیلمہ کذاب کو مع اس کے معتقدین کے مرتد تصور فرمایا مرتد سے نہ جزیہ لیا جاتا ہے نہ صلح اس کے لیے صرف تلوار یا اسلام ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"تُقٰتِلُوۡنَہُمْ اَوْ یُسْلِمُوۡنَ"۔اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص حضور انور کے زمانہ میں اور بھی کسی کو نبی مانے وہ مرتد ہے۔اس سے موجودہ دور کے دیوبندیوں کو عبرت پکڑنی چاہیے حضور انور خاتم النبیین ہیں کہ نہ تو حضور کے زمانہ میں نہ حضور انور کے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا نہ اصلی نبی نہ ظلی بروزی مراتی مذاقی افیونی چرسی نبی۔حضور کی نبوت تمام نبیوں کی نبوت کی ناسخ ہے،حضور ہی آخری نبی ہیں۔
۴
؎اس فرمان عالی میںرسولہسے مراد جنس رسول ہے یعنی میںکے سارے سچے نبیوں پر ایمان لایا۔مسیلمہ کے جھوٹا ہونے کی بڑی دلیل یہ ہے کہ میں نے اس کو جھوٹا بے دین فرمادیا۔
۵
؎کیونکہ تم مرتد ہو اور مرتد واجب القتل ہوتا ہے مگر ایلچی ہو لہذا قتل نہیں کیے جاؤ گے بخیریت واپس چلے جاؤ۔
۶
؎یعنی قاصد ایلچی اگرچہ بذات خود قتل کے لائق ہو مگر جب قاصد بن کر آوے گا تو سلامتی سے واپس کیا جائے گا۔اس سے معلوم ہوا کہ اگر ہمارا مسلمان زنا،چوری،قتل کرکے مرتد ہوکر دار الحرب میں چلا جائے پھر وہ کبھی کفار کا ایلچی بن کر ہمارے ہاں آوے تو اس حالت میں قتل نہ کیا جائے گا اگرچہ وہ چند وجہوں سے مستحق قتل ہے،یہ جملہ مطلق ہرقسم کے مستحق قتل قاصد کو شامل ہے۔ یہاں سنت بمعنی قانون اسلامی ہے فرض واجب کا مقابل نہیں یعنی اس فرمان عالی کے بعد یہ قانون جاری ہوگیا اور اب تک یہ قانون ہر ملک و ملت میں جاری ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3984