Main Icon

باب:کرامات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5944

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ وَعَبَّادَ بْنَ بِشْرٍ تَحَدَّثَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ لَهُمَا حَتّٰى ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ سَاعَةٌ فِي لَيْلَةٍ شَدِيدَةِ الظُّلْمَةِ ثُمَّ خَرَجَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ينقلبان وَبِيَدِ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عُصَيَّةٌ فَأَضَاءَتْ عَصَا أَحَدِهِمَا لَهُمَا حَتّٰى مَشَيَا فِي ضَوْئِهَا حَتّٰى إِذَا افْتَرَقَتْ بِهِمَا الطَّرِيقُ أَضَاءَتْ لِلْآخَرِ عَصَاهُ فَمَشٰى كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي ضَوْءِ عَصَاهُ حَتّٰى بَلَغَ أَهْلَهٗ رَوَاهُ البُخَارِيُّ

عن أنس أن أسيد بن حضير وعباد بن بشر تحدثا عند النبي صلى الله عليه وسلم في حاجة لهما حتى ذهب من الليل ساعة في ليلة شديدة الظلمة ثم خرجا من عند رسول الله صلى الله عليه وسلم ينقلبان وبيد كل واحد منهما عصية فأضاءت عصا أحدهما لهما حتى مشيا في ضوئها حتى إذا افترقت بهما الطريق أضاءت للآخر عصاه فمشى كل واحد منهما في ضوء عصاه حتى بلغ أهله رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے کہ اسید ابن حضیر اور عباد ابن بشر ۱؎نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے کاموں کے متعلق بات چیت کرتے رہے حتی کہ رات کا ایک حصہ گزر گیا یہ واقعہ سخت اندھیری رات میں ہوا ۲؎پھر وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے واپسی کے لیے نکلے ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں چھوٹی لاٹھی تھی تو ان میں سے ایک کی لاٹھی چمک گئی۳؎حتی کہ وہ دونوں اس کی روشنی میں چلتے حتی کہ جب ان کو راستہ نے علیحدہ کیا تو دوسرے کی لاٹھی بھی روشن ہوگئی تو ان میں سے ہر ایک اپنی لاٹھی کی روشنی میں چلا حتی کہ اپنے گھر پہنچ گیا ۵؎(بخاری) ۶؎

شرح حدیث

۱∞؎اسید ابن حضیر انصاری اوسی ہیں،بدروغیرہ میں شریک ہوئے، ۲۰ھ؁ ∞بیس میں مدینہ منورہ میں وفات پائی اور عباد ابن بشربھی انصاری ہیں،بدر وغیرہ میں آپ بھی شریک رہے،کعب ابن اشرف یہودی کے قتل میں آپ بھی شریک تھے،جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۴۵ پینتالیس سال کی عمر ہوئی۔(مرقات)
۲
؎یہ حضرات اندھیری رات میں حضور انور کے پاس سے اپنے گھر جانے والے تھے،روشنی کا کوئی سامان نہ تھا تب یہ کرامات ظاہر ہوئیں۔
۳
؎یا تو پوری لاٹھی چمکی ٹیوب کی طرح یا اس کا سرا چمکا بیٹری کی طرح پہلے معنی زیادہ ظاہر ہیں کہ پوری لاٹھی چمکی۔
۴
؎چونکہ اب دونوں صاحبوں کے راستے الگ الگ ہوگئے ایک کی روشنی دوسرے کے لیے کافی نہ تھی اس لیے دوسرے صحابی کی لاٹھی بھی ٹیوب بن گئی،اس کا چمکنا بھی قدرتًا ہوا پہلی لاٹھی کو مس کرکے نہیں ہوا جیساکہ ظاہر ہے۔
۵
؎یعنی گھر پہنچنے پر ان کی روشنی ختم ہوگئی ٹیوب سے لاٹھی بن گئی۔معلوم ہوا کرامت ولی معجزہ کی جنس سے ہوسکتی ہے دیکھو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ید بیضاء عطا ہوا وہ تھا نبی کا معجزہ اور ان صحابیوں کو عصاءبیضاءعطا ہوا یہ تھی کرامت۔
۶
؎بخاری شریف میں یہ واقعہ باب علامات النبوۃ کے آخر میں اور مناقب انصار کے ماتحت باب مناقب اسید ابن حضیر میں نقل فرمایا مگر اس کے الفاظ یہ نہیں،یہ الفاظ مصنف عبدالرزاق اور مستدرک حاکم اور مسند حاکم میں نقل ہوئے۔ (مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5944