Main Icon

باب:کرامات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5948

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْهَا قَالَتْ: لَمَّا أَرَادُوا غُسْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا: لَا نَدْرِي أَنُجَرِّدُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ منْ ثِيَابِهٖ كَمَا نُجَرِّدُ مَوْتَانَا أَمْ نَغْسِلُهٗ وَعَلَيْهِ ثِيَابُهٗ؟ فَلَمَّا اخْتَلَفُوا أَلْقَى اللّٰهُ عَلَيْهِمُ النَّوْمَ حَتّٰى مَا مِنْهُمْ رَجُل إِلَّا وَذَقَنُهٗ فِي صَدْرِهٖ، ثُمَّ كلَّمَهُمْ مُكَلِّمٌ مِنْ نَاحِيَةِ الْبَيْتِ لَا يَدْرُونَ مَنْ هُوَ؟ اغْسِلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثِيَابُهٗ، فَقَامُوا فَغَسَلُوهُ وَعَلَيْهِ قَمِيصُهٗ، يَصُبُّونَ الْمَاءَ فَوْقَ الْقَمِيصِ وَيَدْلُكُونَهٗ بِالْقَمِيصِ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ".

وعنها قالت: لما أرادوا غسل النبي صلى الله عليه وسلم قالوا: لا ندري أنجرد رسول الله صلى الله عليه وسلم من ثيابه كما نجرد موتانا أم نغسله وعليه ثيابه؟ فلما اختلفوا ألقى الله عليهم النوم حتى ما منهم رجل إلا وذقنه في صدره، ثم كلمهم مكلم من ناحية البيت لا يدرون من هو؟ اغسلوا النبي صلى الله عليه وسلم وعليه ثيابه، فقاموا فغسلوه وعليه قميصه، يصبون الماء فوق القميص ويدلكونه بالقميص. رواه البيهقي في "دلائل النبوة".

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتی ہیں کہ جب صحابہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے کا ارادہ کیا ۱؎تو بولے ہم کو خبر نہیں کہ کیا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے اتاریں جیسے کہ ہم اپنے مُردوں کو برہنہ کرتے ہیں یا ہم اسی طرح آپ کو غسل دیں کہ آپ پر کپڑے ہوں۲؎جب ان میں اختلاف ہوا تو اللہ نے ان پر نیند طاری کردی حتی کہ ان میں کوئی شخص نہ تھا مگر اس کی ٹھوڑی اس کے سینہ میں تھی۳؎پھر گھر کے گوشہ سے کسی بولنے والے نے گفتگو کی وہ نہیں جانتے تھے کہ کون ہے ۴؎کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح غسل دو کہ آپ پر کپڑے ہوں چنانچہ لوگ اٹھے آپ کو غسل دیا ۵؎کہ آپ پر آپ کی قمیض تھی قمیض کے اوپر پانی ڈالتے تھے قمیض ہی سے ملتے تھے ۶؎(بیہقی دلائل النبوۃ)

شرح حدیث

۱∞؎ارادواکا فاعل یا صحابہ کرام ہیں یا اہل بیت عظام یا دونوں حضرات۔وفات شریف پیر کے دن ہوئی،غسل شریف اور نمازودفن بدھ کے دن،غسل کے وقت حضرات صحابہ دولت خانہ سے باہر تھے اور اندر ازواج مطہرات پانی دیتیں اور ڈالتی تھیں،حضرت علی مرتضیٰ حضور کو غسل دیتے تھے۔یہ سب کچھ حضرت ابوبکر صدیق کےبتانے سےکیا گیا دیکھو ترمذی شریف کا آخر۔
۲
؎یہاں قانون اور احترام میں یا یوں کہو کہ علم و عشق میں مقابلہ ہوا،قانون کہتا تھا کہ حضور انور کے کپڑے اتارے جائیں ناف سے گھٹنوں تک تہبند رہے جیساکہ عام مسلمان میت سے کیا جاتا ہے مگر احترام کہتا تھا کہ کپڑوں کو ہاتھ نہ لگایا جائے۔
۳
؎یعنی اس وقت اندر والے اور باہر والے صحابہ کرام اہل بیت عظام اونگھ رہے تھے جو جس حال میں تھا اسی حال میں اونگھ رہا تھا۔
۴
؎محدثین فرماتے ہیں کہ یہ کلام فرمانے والے حضرت خضر علیہ السلام تھے جو ان حضرات کو نظر نہیں آتے تھے۔ (مرقات) خیال رہے کہ حضرت خضر علیہ السلام اپنے وقت کے نبی ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ولی ہیں۔صلح حدیبیہ کے موقع پر جو بیعت الرضوان لی گئی اس میں خضر علیہ السلام شامل تھے اور الیاس علیہ السلام بھی،اب بھی ہر سال یہ دونوں حضرات حج میں جمع ہوتے ہیں جیسے کہ باب ذکر انبیاء میں گزرچکا۔
۵
؎ان سب کے غسل دینے کے وہ ہی معنی ہیں جو ابھی عرض کیے گئے یعنی ان سب نے غسل دینے کا انتظام کیا کوئی پانی لایا کسی نے دوسرے انتظامات کئے۔
۶
؎اس طرح غسل دینا حضور انور کی خصوصیات سے ہے،دوسروں کو غسل دیتے وقت کرتہ وغیرہ اتارا جاوے گا مگر خیال رہے کہ حضور انور کو کفن اس قمیض کے ساتھ نہیں دیا بلکہ بعد غسل قمیض اتاری اس طرح کہ جسم شریف کو برہنہ نہیں کیا۔جن لوگوں نے کہا کہ مع قمیض کفن دیا گیا انہوں نے غلطی کی۔(مرقات و اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5948