Main Icon

باب:کرامات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5947

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا مَاتَ النَّجَاشِيُّ كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهٗ لَا يَزَالُ يُرٰى عَلٰى قَبْرِهٖ نُورٌ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

عن عائشة قالت: لما مات النجاشي كنا نتحدث أنه لا يزال يرى على قبره نور. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ جب نجاشی نے وفات پائی تو ہم چرچہ کرتے تھے کہ ان کی قبر پر نور دیکھا جاتا رہتا ہے ۱؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اصحمہ شاہ حبشہ جن کا لقب نجاشی تھا جب وہ وفات پا گئے تو عرصہ تک عام لوگوں نے آپ کی قبر پر ظاہر ظہور نور دیکھا،امیر علی نے حاشیہ اشعۃ اللمعات میں لکھا کہ یہ نور حضرت ام سلمہ اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے اپنے حبشہ کے قیام کے زمانہ میں اپنی آنکھوں سے دیکھا اور عام لوگوں نے بھی۔اس سے معلوم ہوا کہ کرامت بعد وفات بھی ظاہر ہوسکتی ہے بلکہ ہوتی ہے،کچھ عرصہ بعد یہ کرامت بند ہوگئی،صاحب دلائل خیرات شریف محمد سلیمان جزولی کی قبر سے عرصہ تک مشک خوشبو آتی رہی پھر ہلکی پڑ گئی پھر بند ہوگئی۔(شرح دلائل)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5947