Main Icon

باب:کرامات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5955

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ نُبَيْهَةَ بْنِ وَهْبٍ أَنَّ كَعْبًا دَخَلَ عَلٰى عَائِشَةَ فَذَكَرُوا رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَعْبٌ: مَا مِنْ يَوْمٍ يَطْلُعُ إِلَّا نَزَلَ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ حَتّٰى يَحُفُّوا بِقَبْرِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْرِبُونَ بِأَجْنِحَتِهِمْ وَيُصَلُّونَ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰى إِذَا أَمْسَوْا عَرَجُوا وَهَبَطَ مِثْلُهُمْ فَصَنَعُوا مِثْلَ ذٰلِكَ حَتّٰى إِذَا انْشَقَّتْ عَنْهُ الْأَرْضُ خَرَجَ فِي سَبْعِينَ أَلْفًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ يَزُفُّونَهُ. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ

وعن نبيهة بن وهب أن كعبا دخل على عائشة فذكروا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال كعب: ما من يوم يطلع إلا نزل سبعون ألفا من الملائكة حتى يحفوا بقبر رسول الله صلى الله عليه وسلم يضربون بأجنحتهم ويصلون على رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى إذا أمسوا عرجوا وهبط مثلهم فصنعوا مثل ذلك حتى إذا انشقت عنه الأرض خرج في سبعين ألفا من الملائكة يزفونه. رواه الدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جناب نبیہہ ابن وہب سے ۱؎کہ کعب حضرت عائشہ کی خدمت میں آئے ۲؎سب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا تو جناب کعب بولے نہیں ہے کوئی دن مگر ستر ہزار فرشتے اترتے ہیں حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر شریف کو گھیر لیتے ہیں۳؎اپنے پر بچھادیتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پردرود شریف پڑھتے رہتے ہیں ۴؎حتی کہ جب شام پاتے ہیں تو وہ چڑھ جاتے ہیں اور ان کی مثل اترتے ہیں وہ بھی اسی طرح کرتے ہیں ۵؎حتی کہ جب حضور سے زمین کھلے گی تو حضور ستر ہزار فرشتوں میں نکلے گے جو حضور کو پہنچائیں گے۶؎(دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎حضرت نبیہہ تصغیر سے تابعی ہیں،شیبہ ابن عثمان حجبی کے بھتیجے ہیں،بہت صحابہ سے آپ کی ملاقات ہے۔
۲
؎کعب احبار یہود کے بڑے عالم ہیں،آپ کا نام کعب ابن مانع ہے،کنیت ابو اسحق،آپ نے حضور انور کا زمانہ پایا مگر اس وقت نہ ایمان لائے نہ حضور سے ملے،عہدِ فاروقی میں ایمان لائے اور عہدِ عثمانی میں مقام حمص میں وفات پائی، ۳۲؁ ∞ہجری میں وہاں ہی آپ کی قبر ہے۔(مرقات)
۳
؎ظاہر یہ ہے کہ ملائکہ کی یہ حاضری اور ان کی ڈیوٹیوں کی یہ تبدیلی حضرت کعب نے اپنی آنکھوں سے بطور کشف ملاحظہ کی اس لیے یہ حدیث باب الکرامات میں لائی گئی۔اگر توریت سے دیکھ کر آپ یہ کہتے تو یہ حدیث باب الکرامات میں نہ لائی جاتی۔(اشعہ)
۴
؎خیال رہے کہ ہمیشہ سارے فرشتے ہی حضور پر درود بھیجتے ہیں"اِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰٓئِكَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ"مگر یہ ستر ہزار فرشتے وہ ہیں جن کو عمر میں ایک بار حاضری دربار کی اجازت ہوتی ہے یہ حضرات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت حاصل کرنے کو حاضری دیتے ہیں۔
۵
؎؎معصوموں کو ہے عمر میں صرف ایک بار دار مجرم پڑے رہیں تو رضا عمر بھر کی ہے
جو فرشتہ ایک بار حاضری دے جاتا ہے اسے دوبارہ حاضری کا شرف نہیں ملتا ساری عمر میں صرف چند گھنٹے یعنی آدھا دن کی حاضری نصیب ہوتی ہے۔
۶
؎یزفونبنا ہےزفسے،زفکے معنی ہیں محبوب کو محبوب تک پہنچانا اسی سے ہےزفاف(رخصتی)کہ اس میں دولہا کو دولہن کے گھر تک پہنچایا جاتا ہے یعنی قیامت کے اس دن کی ڈیوٹی والے فرشتے حضور کو اپنی جھرمٹ میں لےکر رب تعالٰی تک پہنچائیں گے دولہا کی طرح۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ حضرت کعب احبار نے یہ بات گزشتہ آسمانی کتب سے دیکھ کر فرمائی ہے،چونکہ اس میں حضور کا احترام و اکرام ہے لہذا اسے باب الکرامات میں لائے،کرامتبمعنی عزت و عظمت۔ (مرقات)ممکن ہے کہ یہ فرمان حضرت کعب کا انکشاف بھی ہو اور گزشتہ کتب سے ثابت بھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5955