Main Icon

باب:کرامات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5952

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي خَلْدَةَ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي الْعَالِيَةِ: سَمِعَ أَنَسٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: خَدَمَهٗ عَشْرَ سِنِينَ وَدَعَا لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ لَهٗ بُسْتَانٌ يَحْمِلُ فِي كُلِّ سَنَةٍ الْفَاكِهَةَ مَرَّتَيْنِ وَكَانَ فِيهَا رَيْحَانٌ يَجِيءُ مِنْهُ رِيحُ الْمِسْكِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

وعن أبي خلدة قال: قلت لأبي العالية: سمع أنس من النبي صلى الله عليه وسلم؟ قال: خدمه عشر سنين ودعا له النبي صلى الله عليه وسلم وكان له بستان يحمل في كل سنة الفاكهة مرتين وكان فيها ريحان يجيء منه ريح المسك. رواه الترمذي وقال: هذاحديث حسن غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے ابوخلدہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے ابو العالیہ سے کہا ۱؎کہ کیا حضرت انس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہے فرمایا انہوں نے دس سال حضور کی خدمت کی ہے اور حضور نے ان کے لیے دعا فرمائی ہے ۲؎ان کا ایک باغ تھا جو ہر سال میں دوبار میوہ دیتا تھا اور اس باغ میں ایک گھاس تھی جس سے مشک کی خوشبو آتی تھی ۳؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن ہے غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎ابوخلدہ کا نام خالد ابن دینار ہے،تمیمی ہیں،سعدی بصری ہیں،وہاں درزی گری کی دکان کرتے تھے،تابعی ہیں،ابو العالیہ کا نام رفیع ابن مہران رباحی ہے،آپ بھی تابعی ہیں،حضرت ابوبکر صدیق و عمر فاروق سے ملاقات ہے، ۹۰ھ؁ ∞نوے میں آپ کی وفات ہے۔
۲
؎غالبًا یہ قول ابوالعالیہ کا ہے اس سے مقصود ہے حضرت انس کی عظمت بیان کرنا۔
۳
؎شاید اس گھاس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے محبت و کرم سے ہاتھ شریف پھیر دیا ہوگا،حضرت انس کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادتی عمر و اولاد کی دعا بھی کی تھی تو آپ کی عمر سو برس سے زیادہ ہوئی،آپ کی اولاد اور اولاد در اولاد آپ کی زندگی میں ایک سو تک پہنچی جن میں تہتر لڑکے تھے اور ستائیس لڑکیاں اور مال کی برکت تو یہاں مذکور ہے؎ہاتھ جس سمت اٹھے غنی کردیا موج بحر سماحت پہ لاکھوں سلام
یہ سب حضور پاک کے معجزات ہیں اور حضرت انس کی کرامات۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5952