Main Icon

باب:کرامات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5954

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بَعَثَ جَيْشًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا يُدْعٰى سَارِيَةَ فَبَيْنَمَا عُمَرُ يَخْطُبُ فَجَعَلَ يَصِيحُ: يَا سَارِيَ! الْجَبَلَ، فَقَدِمَ رَسُولٌ مِنَ الْجَيْشِ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَقِيَنَا عَدُوُّنَا فَهَزَمُونَا فَإِذَا بِصَائِحٍ يَصِيحُ: يَا سَارِيَ الْجَبَلَ. فَأَسْنَدْنَا ظُهُورَنَا إِلَى الجَبَلِ فَهَزَمَهُمُ اللّٰهُ تَعَالٰى رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي دَلَائِل النُّبُوَّةِ

وعن ابن عمر أن عمر بعث جيشا وأمر عليهم رجلا يدعى سارية فبينما عمر يخطب فجعل يصيح: يا ساري! الجبل، فقدم رسول من الجيش فقال: يا أمير المؤمنين لقينا عدونا فهزمونا فإذا بصائح يصيح: يا ساري الجبل. فأسندنا ظهورنا إلى الجبل فهزمهم الله تعالى رواه البيهقي في دلائل النبوة

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ جناب عمر نے ایک لشکر بھیجا اور ان پر ایک شخص کو امیر بنایا جنہیں ساریہ کہا جاتا تھا ۱؎تو جب کہ جناب عمر خطبہ پڑھ رہے تھے ۲؎کہ اچانک چیخنے لگے اے ساریہ پہاڑ کو لو۳؎پھرلشکر سے ایک قاصد آیا بولا اے امیر المؤمنین ہم کو ہمارا دشمن ملا انہوں نے ہم کو بھگادیا تو کوئی چیخنے والا بولا اے ساریہ پہاڑ کو لو ہم نے اپنی پیٹھیں پہاڑ کی طرف لگالیں تب انہیں اللہ تعالٰی نے بھگادیا(بیہقی دلائل النبوۃ)

شرح حدیث

۱∞؎یہ لشکر مقام نہاوند میں بھیجا گیا تھا،نہاوند جنوبی ہمدان کے پہاڑوں کے پاس مشہور بستی ہے،ہمدان ملک فارس میں ہے،ان سردار کا نام حضرت ساریہ ابن زنیم ہے۔(مرقات)
۲
؎یعنی جمعہ کے دن نماز سے قبل خطبہ دے رہے تھے کہ آپ نے حضرت ساریہ کو پکارا دوران خطبہ خطیب لوگوں سے کلام دنیاوی بھی کرسکتا ہے اور یہ کلام تو خالص دینی تھا کہ جہاد میں مدد فرمانا مقصودتھا۔
۳
؎حضرت ساریہ نہاوند میں جہاد کررہے تھے کفار نے اپنی فوج کا کچھ حصہ پہاڑ کے پیچھے کرلیا تاکہ وہ پہاڑ کے پیچھے سے مسلمانوں پر حملہ کردیں انہیں گھیرے میں لے رہے تھے،حضرت ساریہ اس سازش سے بے خبر تھے،مدینہ منورہ سے حضرت عمر نے انہیں پکارا کہ اے ساریہ پہاڑ کو دیکھو یا یہ مطلب ہے کہ اے ساریہ پہاڑ کو اپنی پناہ بنا کر لڑو تاکہ تم پر پیچھے سے حملہ نہ ہوسکے،حضرت ساریہ اس ہدایت سے سنبھل گئے رب نے فتح دی۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ اللہ والے دور کو نزدیک کی طرح دیکھ لیتے ہیں۔دوسرے یہ کہ اپنی آواز دور تک پہنچادیتے ہیں۔تیسرے یہ اللہ والے دور سے مدد کرتے ہیں۔حضرت آصف ابن برخیا کا واقعہ تو قرآن مجید میں مذکور ہے کہ آپ ایک آن میں ملک یمن کے شہر سبا سے تخت بلقیس فلسطین میں دربار سلیمانی میں اٹھا لائے"اَنَا اٰتِیۡكَ بِہٖ قَبْلَ اَنۡ یَّرْتَدَّ اِلَیۡكَ طَرْفُكَ"۔آج سائنس نے یہ سارے کام کرکے دکھا دیئے تو کیا نوری قوت ناری طاقت سے کم ہے،ابھی حال میں روس نے ایک راکٹ میں کتیا بٹھا کر فضا آسمانی میں بھیجی وہ بتیس ہزار میل بلند فضا میں راکٹ میں اڑ رہی تھی اور روس کا محکمہ اطلاعات طاس برخبر دے رہا تھا کہ اب کتیا سورہی ہے اب کھارہی ہے اب بھونک رہی ہے،اب اس کے خون کا دباؤ کتنا ہے،اب اس کا علاج یہاں سے کیا جارہا ہے پھر خبر دی کہ آج وہ کتیا مرگئی اس کتیا کا نام لائیکا تھا۔اخبارات میں یہ خبر برابر شائع ہوتی رہیں ریڈیو بولتا رہا سارے توحید پرست اس پر ایمان لاتے رہے کسی نے اس پر شرک کا فتویٰ نہ دیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5954