Main Icon

باب: جس کو موت آرہی ہو اس کے پاس کیا کہا جائے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1616

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ “ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

عن أبي سعيد وأبي هريرة قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “لقنوا موتاكم لا إله إلا الله “ . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعید و ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنے مُردوں کو"لا اِلٰہ الّاالله"سکھاؤ ۱∞؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حکم استحبابی ہے،یہی جمہور علماء کا مذہب ہے،بعض مالکیوں کے ہاں وجوبی ہے۔موتےٰ کے حقیقی معنے ہیں جومرچکا ہو،مجازًا قریب الموت کو موتےٰ کہہ دیتے ہیں یعنی جو مررہا ہو اسے کلمہ سکھاؤ اس طرح کہ اس کے پاس بلند آواز سے کلمہ پڑھو اس کا حکم نہ دو کیونکہ حدیث شریف میں ہے کہ جس کا آخری کلام"لا اِلٰہ الّاالله"ہو وہ جنتی ہے۔خیال رہے کہ اگر مؤمن بوقت موت کلمہ نہ پڑھ سکے جیسے بے ہوش یا شہید وغیرہ تو وہ ایمان پر ہی مرا کہ زندگی میں مؤمن تھا لہذا اب بھی مؤمن بلکہ اگر نزع کی غشی میں اس کے منہ سے کلمۂ کفرسنا جائے تب بھی وہ مؤمن ہی ہوگا اس کا کفن دفن،نماز سب کچھ ہوگی کیونکہ غشی کی حالت کا ارتدادمعتبرنہیں۔(ازشامی)اس سےمعلوم ہوا کہ مرتے وقت کلمہ پڑھانا اس حدیث مذکورہ پرعمل کے لیے ہے نہ کہ اسے مسلمان بنانے کے لیئے،مسلمان تو وہ پہلے ہی ہے یا مطلب یہ ہے کہ میت کو بعد دفن کلمہ کی تلقین کرو کہ قبرپر کلمہ پڑھو یا قبر کے سرہانے اذان کہہ دو کیونکہ یہ وقت امتحان قبر کا ہے،اذان میں نکیرین کے سارے سوالات کے جوابات کی تلقین بھی ہے اور اس سے میت کے دل کو تسکین بھی ہوگی اور شیاطین کا دفعیہ بھی ہوگا اور اگر قبر میں آگ ہے توا س کی برکت سے بجھے گی اسی لیے پیدائش کے وقت بچے کے کان میں دل کی گھبراہٹ،آگ لگنے،جنات کے غلبے وغیرہ پر اذان سنت ہے،یہ دوسرے معنی زیادہ قوی ہیں۔شامی نے یہ ہی معنے اختیار کیے کیونکہ حقیقتًا موتے وہی ہے جو مرچکا ہو مگر زیادہ قوی یہ ہے کہ عموم مجاز کے طریقہ پر دونوں معنے ہی مراد لیے جائیں،یعنی جو مررہا ہو اور جو مرچکا ہو دونوں کوتلقین کرو،ہمارے ہاں بعد دفن قبر پر اذان دی جاتی ہے،اس کا ماخذ یہ حدیث بھی ہے۔اس مسئلے کی پوری تحقیق ہماری کتاب "جاءالحق"حصہ اول میں دیکھو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1616