Main Icon

باب: جس کو موت آرہی ہو اس کے پاس کیا کہا جائے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1622

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “اِقْرَؤُوْا سُورَةَ (يس) عَلیٰ مَوْتَاكُمْ” . رَوَاهُ أَحْمدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْن مَاجَه

وعن معقل بن يسار قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “اقرؤوا سورة (يس) علی موتاكم” . رواه أحمد وأبو داود وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معقل ابن یسار سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ اپنے مرنے والوں پر سورۂ یسین پڑھاکرو ۱∞؎(احمد،ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎اس میں سارے وہ احتمالات ہیں جو پہلی حدیث میں عرض کیے گئے،یعنی جس کی جان نکل رہی ہوں وہاں بیٹھ کر یٰسین پڑھو تاکہ جان کنی آسان ہو بعد دفن قبر پر پڑھو،نیز کچھ روز تک میت کے گھر میں پڑھتے رہو۔(اشعۃ اللمعات)قرآن کی ہرسورۃ میں کوئی خاص فائدہ ہوتاہے،سورۂ یٰسین میں حل مشکلات کی تاثیر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1622