Main Icon

باب: جس کو موت آرہی ہو اس کے پاس کیا کہا جائے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1624

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْھَا قَالَتْ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ قَبَّلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَيِّتٌ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْن مَاجَه

وعنھا قالت: إن أبا بكر قبل النبي صلى الله عليه وسلم وهو ميت. رواه الترمذي وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ ابوبکر صدیق نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو بوسہ دیا حالانکہ حضور وفات یافتہ تھے ۱∞؎(ترمذی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎اس سےمعلوم ہوا کہ میت کوتعظیمًا اور شفقۃً چومناجائزہے،ہاں مرد اپنی بیوی کو اس کے فوت ہونے کے بعد اور بیوی مرد کو نہیں چوم سکتی،ابن ابی شیبہ میں ہے کہ حضرت ابن عمر اپنا منہ آپ کی پیشانی پر رکھ کر رونے لگے چومتے تھے اور کہتے تھے تم پر میرے ماں باپ فدا،آپ زندگی میں بھی اچھے اور بعد وفات بھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1624