Main Icon

باب: جس کو موت آرہی ہو اس کے پاس کیا کہا جائے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1632

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَنَّهٗ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: “إِنَّمَا نَسَمَةُ الْمُؤْمِنِ طَيْرٌ تُعْلَقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ حَتّٰى يُرْجِعَهُ اللهُ فِي جَسَدِهٖ يَوْمَ يَبْعَثُهُ” . رَوَاهُ مَالِكٌ وَالنَّسَائِيّ وَالْبَيْهَقِيّ فِي كِتَابِ الْبَعْثِ وَالنُّشُوْرِ

وعنه عن أبيه قال: أنه كان يحدث أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: “إنما نسمة المؤمن طير تعلق في شجر الجنة حتى يرجعه الله في جسده يوم يبعثه” . رواه مالك والنسائي والبيهقي في كتاب البعث والنشور

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے وہ اپنے والد سے راوی وہ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا مؤمن کی روح پرندہ ہے جو جنت کے درخت میں لٹکایاجاتاہے حتی کہ الله جس دن اسے اٹھائے گا اس کے جسم میں لوٹائے گا ۱∞؎(مالک، نسائی،بیہقی فی کتاب البعث و النشور)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی بعدموت مؤمن کی روح پرندے کی شکل میں جنت کے درختوں میں رہتی ہے اوروہاں کے پھل کھاتی ہے۔فرق یہ ہے کہ روحیں ہر وقت کھاتی ہیں اور ان کی روحیں صبح و شام۔ظاہر یہ ہے کہ اس سے عام مؤمن مراد ہیں،روح کہیں بھی رہے مگر اس کا جسم سےتعلق رہتاہے۔مرقاۃ نے اس جگہ فرمایا کہ مرنے کے بعد مؤمن کا جسم بھی روح کی طرح لطیف ہوجاتا ہے۔چنانچہ مؤمن بعدوفات جہاں چاہے عالَم کی سیرکرتا ہے،دیکھو معراج کی رات حضور صلی الله علیہ وسلم کا جسم روح کی طرح نورہوچکا تھا اور اولیاء الله کے لیے تمام زمین سمیٹ دی گئی ہے،وہ بیک وقت مختلف جگہ میں موجود ہوسکتے ہیں،ان کی یہ کرامت تو دنیا کی اس زندگی میں دیکھی گئی ہے،پھر عالم ارواح کا کیا پوچھنا۔بعض شارحین نے اس حدیث کا اس لیے انکارکیا کہ یہ عقل سے وراء ہے،اگر انسانی روح پرندوں میں پہنچ جائے تو آریوں کا آواگون ثابت ہوگا مگر یہ ان کی جہالت ہے وہ روح خود اس شکل میں ہوجاتی ہے آواگون سے اسے کیا تعلق،اس میں تو روح انسانی کتے یا گدھے کی روح بن جاتی ہے۔مؤمن کی روح کا پرندہ بن جانا ایسا ہی ہے جیسے فرشتوں کا شکل انسانی میں حضور صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہونا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1632