Main Icon

باب: جس کو موت آرہی ہو اس کے پاس کیا کہا جائے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1617

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ سَلْمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَرِيضَ أَو الْمَيِّتَ فَقُوْلُوْا خَيْرًا فَإِن الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلیٰ مَا تَقُولُونَ” . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أم سلمة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “إذا حضرتم المريض أو الميت فقولوا خيرا فإن الملائكة يؤمنون علی ما تقولون” . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب تم بیمار یا میت کے پاس جاؤ تو اچھی بات بولو ۱∞؎کیونکہ فرشتے تمہارے کہے پرآمینکہتے ہیں۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎غالبًا یہ شک راوی کو ہے یعنی نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے مریض فرمایا یا میت۔مریض سے مراد قریب الموت مریض ہے،خیر سے مراد دعائے شفا اور دعائے مغفرت ہے۔اور اس سےمعلوم ہوا کہ ایسی حالت میں حاضرین دنیوی کلام نہ کریں، آخر وقت تک دعائے شفا کرسکتے ہیں،اعلیٰ حضرت رحمۃ الله علیہ نے وصیت کی تھی کہ میری جانکنی کے وقت اس حجرے میں ناپاک انسان،کتا،جاندار کا فوٹو یعنی نوٹ روپیہ پیسہ وغیرہ کچھ نہ ہو۔۲؎یعنی ملک الموت اور ان کے ساتھی ہر اس بات پرآمینکہہ دیتے ہیں جوتمہارے منہ سے نکلتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1617