Main Icon

باب: جس کو موت آرہی ہو اس کے پاس کیا کہا جائے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1619

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْہَا قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلیٰ أَبِيْ سَلْمَةَ وَقَدْ شَقَّ بَصَرَهٗ فَأَغْمَضَهٗ ثُمَّ قَالَ: “إِنَّ الرُّوحَ إِذَا قُبِضَ تَبِعَهُ الْبَصَرُ” فَضَجَّ نَاسٌ مِنْ أَهْلِهٖ فَقَالَ: “لَا تَدْعُوا عَلیٰ أَنْفُسِكُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤْمِنُوْنَ عَلیٰ مَاتَقُوْلُوْنَ” ثُمَّ قَالَ: “اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِأَبِي سَلَمَةَ وَارْفَعْ دَرَجَتَهٗ فِي الْمَهْدِيِّينَ وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهٖ فِي الْغَابِرِينَ وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهٗ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ وَأَفْسِحْ لَهٗ فِي قَبْرِهٖ وَنَوِّرْ لَهٗ فِيهِ” . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعنہا قالت: دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم علی أبي سلمة وقد شق بصره فأغمضه ثم قال: “إن الروح إذا قبض تبعه البصر” فضج ناس من أهله فقال: “لا تدعوا علی أنفسكم إلا بخير فإن الملائكة يؤمنون علی ماتقولون” ثم قال: “اللهم اغفر لأبي سلمة وارفع درجته في المهديين واخلفه في عقبه في الغابرين واغفر لنا وله يا رب العالمين وأفسح له في قبره ونور له فيه” . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم ابو سلمہ پر تشریف لائے ان کی آنکھیں کھلی رہ گئیں تھیں،انہیں بند کردیا،پھر فرمایا کہ روح جب قبض کرلی جاتی ہے تو نظر اس کے پیچھے جاتی ہے ۱∞؎ان کے گھر کے لوگوں نے آہ وبکاکی تو حضور نے فرمایا اپنے متعلق خیر ہی کی دعا کرنا کیونکہ فرشتے تمہارے کہے پرآمینکہتے ہیں۲؎پھر فرمایاالٰہی ابوسلمہ کو بخش دے اور ہدایت والوں میں ان کا درجہ بلندکر ان کے پسماندگان میں ان کا تو خلیفہ ہو اور اےرب العلمینہماری اور ان کی مغفرت فرما اور ان کی قبر میں روشنی اور وسعت دے۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی روح کے ساتھ نور نگاہ بھی نکل جاتی ہے اس لیے کبھی مرنے والے کی آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں،آنکھیں کھلی رہنے سے فائدہ کچھ ہوتا نہیں البتہ شکل ڈراؤنی ہوجاتی ہے اس لیے آنکھیں فورًا بند کردو بلکہ اگر منہ کھلا رہ گیا ہوتو اسے بھی بند کردیا جائے اور جبڑے باندھ دیئے جائیں۔۲؎اس سےمعلوم ہوا کہ میت پر بلند آواز سے رونا اور اچھی باتیں منہ سے نکالنا برا نہیں،ہاں پیٹنا اور بکواس کرنا برا ہے بلکہ کبھی کفر جیسے ہائے پہاڑ گر گیا ہائے کمر ٹوٹ گئی،ہائے موت نے یا الله نے ظلم کردیااَلْعَیَاذُبِالله،یا الله ہمیں بھی موت دے دے وغیرہ۔۳؎سُبْحَانَ اللّٰهِ !کیا پاکیزہ اور جامع دعا ہے،میت کے پسماندگان اپنے اور سارے مسلمانوں کے لیے ہرطرح کی دعا مانگ لی گئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1619