Main Icon

باب: جس کو موت آرہی ہو اس کے پاس کیا کہا جائے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1618

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْہَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ تُصِيبُهٗ مُصِيبَةٌ فَيَقُولُ مَا أَمَرَهُ اللهُ بِهٖ : (إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ) اَللّٰهُمَّ أَجِرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَاخْلُفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَخْلَفَ اللهُ لَهٗ خَيْرًا مِنْهَا ".فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلمَة قُلْتُ: أَيُّ الِمُسْلِمينَ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ؟ أَوَّلُ بَيْتِ هَاجَرَ إِلٰى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ إِنِّي قُلْتُهَا فَأَخْلَفَ اللهُ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعنہا قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " ما من مسلم تصيبه مصيبة فيقول ما أمره الله به : (إنا لله وإنا إليه راجعون) اللهم أجرني في مصيبتي واخلف لي خيرا منها إلا أخلف الله له خيرا منها ".فلما مات أبو سلمة قلت: أي المسلمين خير من أبي سلمة؟ أول بيت هاجر إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم إني قلتها فأخلف الله لي رسول الله صلى الله عليه وسلم . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ ایسا کوئی مسلمان نہیں جسے کوئی مصیبت پہنچے تو وہ وہی کہے جس کا الله نے حکم دیا کہ ہم الله کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں الٰہی مجھے میری مصیبت میں اجر دے اور اس کا بہتر بدل عطاکر مگر الله اسے بہترعوض دیتا ہے ۱∞؎جب ابوسلمہ فوت ہوئے تو میں بولی کہ ابوسلمہ سے بہتر کون مسلمان ہوگا وہ تو پہلے گھر والے ہیں جنہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی پھر میں نے یہ دعا کہہ ہی لی چنانچہ الله نے مجھے ان کے عوض رسول الله صلی الله علیہ وسلم عطا فرمائے ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہ عمل بڑا مجرب ہے فوت شدہ میت اور گمشدہ چیز سب پر پڑھا جائے لیکن جس گمی چیز کے ملنے کی امید ہو اس پرراجعونتک پڑھے اور جس سے مایوسی ہوچکی ہو اس پر پورا پڑھے،مگر ضروری یہ ہے کہ زبان پر الفاظ ہوں اور دل میں صبر۔(ازمرقات)۲؎ابوسلمہ حضرت ام سلمہ کے پہلے خاوند تھے،نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے رضاعی بھائی تھے اور پھوپھی کے بیٹے بھی آپ نے مع گھر بار پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کی،پھر مدینہ پاک کی جانب مع گھر بار ہجرت کرنے میں آپ اول ہیں اسی لیے آپ نےاَوَّلَ بَیْتٍفرمایا۔ام سلمہ کی نگاہ میں ان خصوصیات کے لحاظ سے ابوسلمہ جزوی طور پر سب سے بہتر تھے اس لیے آپ نے یہ خیال کیا،لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں ہوسکتاکہ خلفائے راشدین تو ابو سلمہ سے افضل تھے یعنی ایمان کہتا تھا کہ اس دعا کی برکت سے مجھے ان سے بہتر خاوند ملے گا مگرعقل وسمجھ کہتی تھی ناممکن ہے،میں نے عقل کی نہ مانی،ایمان کی مانی اور دعا پڑھ لی۔اس کی برکت سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے نکاح میں آئی جن پر لاکھوں ابوسلمہ قربان۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1618