- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- جنازوں کا بیان
- حدیث نمبر 1628
باب: جس کو موت آرہی ہو اس کے پاس کیا کہا جائے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1628
جنازوں کا بیان - جلد 2
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْہ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: “إِذَا خَرَجَتْ رُوحُ الْمُؤْمِنِ تَلَقَّاهَا مَلَكَانِ يُصْعِدَانِهَا” . قَالَ حَمَّادٌ: فَذَكَرَ مِنْ طِيبِ رِيحِهَا وَذَكَرَ الْمِسْكَ قَالَ: " وَيَقُولُ أَهْلُ السَّمَاءِ: رُوحٌ طَيِّبَةٌ جَاءَتْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْكِ وَعَلیٰ جَسَدٍ كُنْتِ تُعَمِّرِينَهٗ فَيُنْطَلَقُ بِهٖ إِلٰى رَبِّهٖ ثُمَّ يَقُولُ: انْطَلِقُوا بِهٖ إِلٰى آخِرِ الْأَجَلِ ". قَالَ: “وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا خَرَجَتْ رُوحُهُ” قَالَ حَمَّادٌ: وَذَكَرَ مِنْ نَتْنِهَا وَذَكَرَ لَعْنَهَا. " وَيَقُولُ أَهْلُ السَّمَاءِ: رُوحٌ خَبِيثَةٌ جَاءَتْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ فَيُقَالُ: انْطَلِقُوا بِهٖ إِلٰى آخِرِ الْأَجَل " قَالَ أَبُو هُرَيْرَة: فَرَدَّ رَسُول الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِيْطَةٍ كَانَت عَلَيْهِ عَلیٰ أَنْفِهِ هٰكَذَا . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
وعنہ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: “إذا خرجت روح المؤمن تلقاها ملكان يصعدانها” . قال حماد: فذكر من طيب ريحها وذكر المسك قال: " ويقول أهل السماء: روح طيبة جاءت من قبل الأرض صلى الله عليك وعلی جسد كنت تعمرينه فينطلق به إلى ربه ثم يقول: انطلقوا به إلى آخر الأجل ". قال: “وإن الكافر إذا خرجت روحه” قال حماد: وذكر من نتنها وذكر لعنها. " ويقول أهل السماء: روح خبيثة جاءت من قبل الأرض فيقال: انطلقوا به إلى آخر الأجل " قال أبو هريرة: فرد رسول الله صلى الله عليه وسلم ريطة كانت عليه علی أنفه هكذا . رواه مسلم
حدیث ترجمہ
روایت ہے انہی سےکہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایاجب مسلمان کی روح نکلتی ہے تو اسے دو فرشتے ملتے ہیں جو اسے چڑھا لے جاتےہیں ۱∞؎حماد نے کہاحضور نے اس کی عمدہ خوشبو کا اورمشک کا ذکر فرمایا ہے۲؎فرمایا کہ آسمان والے کہتے ہیں پاک روح زمین کی طرف سے آئی الله تجھ پر اور اس جسم پر رحمتیں کرے جسے تو آبادکرتی تھی۳؎پھر اسے رب کے پاس لے جاتےہیں رب فرماتا ہے کہ اسے آخر وقت تک کے لیئے وہیں پہنچادو۴؎فرمایا کہ جب کافر کی روح نکلتی ہے حماد فرماتے ہیں کہ حضور نے اس کی بدبو اورلعنت کا ذکر فرمایا آسمان والے کہتے ہیں خبیث روح ہے جو زمین کی طرف سے آئی تو کہاجاتاہے اسے معیاد تک کے لیئے لےجاؤ،ابوہریرہ فرماتےہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم پرچادرتھی اسے حضورصلی الله علیہ وسلم نے اس طرح اپنی ناک سے لگالیا ۵؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎غالبًا یہ دو فرشتے اس کے اعمال لکھنے والے ہیں،روح ان کے ہاتھوں میں ہوتی ہے،باقی کچھ اور فرشتے ان کے ساتھ ہوتے ہیں لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں جہاں بہت سے فرشتوں کے لے جانے کا ذکرہے۔۲؎یعنی اس روح کی خوشبو کو مشک اعلیٰ سےتشبیہ دی جو ان فرشتوں کو اور باقی دوسرے فرشتوں کومحسوس ہوتی ہے،کبھی حاضرین انسانوں نےبھی اس کا احساس کیا کہ جان نکلنے پر اعلیٰ درجے کی مہک آئی۔اس سےمعلوم ہوا کہ مؤمن کی روح مہکتی ہے،کبھی اچانک غیبی خوشبومحسوس ہوتی ہے،بزرگ فرماتے ہیں کہ اس وقت کسی پاک روح کا وہاں سے گزرہوتا ہے ایسےموقعہ پر درود شریف پڑھنا چاہیے،حضور انورصلی الله علیہ وسلم کے روضہ اطہر کے پاس باب جبریل سے متصل بہت دفعہ خوشبو محسوس کی گئی۔۳؎غیر نبی پر درود مستقلًا پڑھنا ہمارے لیے منع ہے،یعنی ہم کسی کو صلی الله علیہ وسلم نہیں کہہ سکتے۔فرشتوں کا یہ درود اس روح پر پڑھناان کی خصوصیت ہے جیسے حضور انورصلی الله علیہ وسلم صدقہ لانے والے کو فرماتے"اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی فُلَانٍ" ہمارے احکام اور ہیں ان کے احکام کچھ اور۔۴؎یعنی قیامت تک اسے برزخ میں رکھو،برزخ موت اورقیامت کے درمیانی وقت کانام ہے،اس وقت میں روحیں مختلف جگہ رہتی ہیں کوئی روح جنت میں اعلیٰ علیین میں،کوئی چاہ زمزم میں،کوئی حضورصلی الله علیہ وسلم کے قرب حضوری میں،یہاں کی یہ عبارت ان سب کو شامل ہے مگر روح جہاں بھی ہوجسم اورقبرسےتعلق ضرور رکھتی ہے اسی لیے قبر پر جاکر سلام،فاتحہ پڑھتے ہیں۔۵؎یعنی حضرت ابوہریرہ نے اپنی چادر ناک پر لگاکر فرمایا کہ حضورانورصلی الله علیہ وسلم نے یہ فرماتے ہوئے یوں چادرکی تھی۔مرقات نے فرمایا کہ اس وقت سرکار کی ناک نے کسی کافر روح کی بدبومحسوس فرمائی تھی آپ کا یہ عمل اس بنا پر تھا۔کبھی بزرگوں کے حواس دور کی چیزمحسو س کرلیتے ہیں،یعقوب علیہ السلام نے کنعان بیٹھے ہوئے مصر سے روانہ ہونے والی قمیص یوسفی کی خوشبو محسوس کرکے فرمایا:"اِنِّیۡ لَاَجِدُ رِیۡحَ یُوۡسُفَ"۔بعض شارحین نے فرمایا کہ یہ عمل شریف بطورتمثیل کیا یعنی اگر تم وہ بدبو پاؤ تو ایسے ناک ڈھک لو مگر پہلی توجیہ قوی ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1628