Main Icon

باب: جس کو موت آرہی ہو اس کے پاس کیا کہا جائے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1623

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ وَهُوَ مَيِّتٌ وَهُوَ يَبْكِي حَتّٰى سَالَ دُمُوعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلیٰ وَجْهِ عُثْمَانَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ

وعن عائشة قالت: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قبل عثمان بن مظعون وهو ميت وهو يبكي حتى سال دموع النبي صلى الله عليه وسلم علی وجه عثمان. رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے عثمان ابن مظعون کی میت کو چوما حالانکہ حضور رو رہے تھے حتی کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے آنسو عثمان کے چہرے پر بہنے لگے ۱∞؎(ترمذی،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎حضرت عثمان ابن مظعون وہ پہلے مہاجر ہیں جو مدینہ پاک میں فوت ہوئے اور جنت البقیع میں دفن ہوئے،حضور صلی الله علیہ وسلم نے اپنی دست اقدس سے ان کی قبر کے سرہانے پتھر گاڑا،آپ حضورصلی الله علیہ وسلم کے رضاعی بھائی ہیں،صاحب ہجرتین ہیں،اسلام سے پہلےبھی کبھی شراب نہ پی،بڑے عابد اورتہجدگزارصحابی تھے،ہجرت کے تیس ماہ بعد شعبان کے مہینہ میں وفات پائی،حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا انہیں چومنا غسل دینے سے پہلے تھا۔اس سے معلوم ہوا کہ میت غسل سے پہلے بھی پاک ہوتی ہے اس کا غسل جنابت کا سا غسل ہے۔(لمعات)لمعات میں اسی جگہ ہے کہ حضورصلی الله علیہ وسلم کے بعد ان کا عظیم الشان مقبرہ بنایا گیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1623