Main Icon

باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5027

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ يَلْتَقِيَانِ فَيُعْرِضُ هٰذَا وَيُعْرِضُ هَذٰاوَخَيْرُهُمَا الَّذِي يبْدَأ بِالسَّلَامِ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن أبي أيوب الأنصاري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا يحل للرجل أن يهجر أخاه فوق ثلاث ليال يلتقيان فيعرض هذا ويعرض هذاوخيرهما الذي يبدأ بالسلام . (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو ایوب انصاری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ کسی شخص کو یہ حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین شب سے زیادہ چھوڑے رہے کہ جب دونوں ملیں تو یہ اس سے وہ اس سے منہ پھیرلے ۱∞؎ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں چھوڑنے سے مراد دنیاوی رنجشوں کی وجہ سے ترک تعلق کرنا ہے،چونکہ تین دن کے عرصہ میں نفس کا جوش ٹھنڈا پڑ جاتا ہے اس لیے تین دن کی قید لگائی گئی۔بدمذہب بے دین سے دائمی بائیکاٹ کرنا یا تعلیم و تربیت کے لیے ترک تعلق کرنا زیادہ کا بھی جائز ہے۔حضور نبی صلی الله علیہ وسلم نے حضرت کعب ابن مالک،بلال ابن امیہ،مرارہ ابن لوی رضی الله عنہم اجمعین کا پچاس دن رکھا،یہ بائیکاٹ ہجران نہ تھا بلکہ تعلیم تھی لہذا یہ حدیث حضرت کعب کی حدیث کے خلاف نہیں۔
۲
؎یعنی اگر دنیاوی معاملات میں دو مسلمان لڑ پڑیں پھر ملیں تو بہتر وہ ہوگا جو اس کی ابتداءکرے۔یہاں کشیدگی دورکردینے کی ہدایت ہے کسی خطرناک آدمی سے محتاط رہنا اس کے خلاف نہیں۔تہاجر اور چیز ہے احتیاط دوسری چیز۔ابتداء بالسلام کرنے والے کو اس لیے خیر فرمایا کہ وہ تواضع کرتا ہے الله کے لیے وہ ہی ہجران دور کرتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5027