Main Icon

باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5030

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تُعْرَضُ أَعْمَالُ النَّاسِ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّتَيْنِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ إِلَّا عَبْدًا بَيْنَهٗ بَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ فَيُقَالُ: اُتْرُكُوا هَذَيْنِ حَتّٰى يَفِيئَا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " تعرض أعمال الناس في كل جمعة مرتين يوم الاثنين ويوم الخميس فيغفر لكل عبد مؤمن إلا عبدا بينه بين أخيه شحناء فيقال: اتركوا هذين حتى يفيئا ". رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ لوگوں کے اعمال ہر ہفتہ میں دوبار پیش کیے جاتے ہیں ۱∞؎پیر کے دن اور جمعرات کے دن تو ہر بندہ مؤمن کی بخشش کردی جاتی ہے سواء اس بندے کے جس کے اور اس کے بھائی کے درمیان عداوت ہو کہا جاتا ہے کہ انہیں چھوڑو حتی کہ رجوع کرلیں ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎ناسسے مراد مسلمان ہیں اور جمعہ سے مراد ہفتہ ہے۔مرتینفرمایا تاکہ معلوم ہو کہ ایک دن میں دوبار پیشی نہیں ہوتی بلکہ ہر دن میں ایک بار یہ پیشی بارگاہِ الٰہی میں ہوتی ہے یا اس فرشتے کے سامنے جو لوگوں کے اعمال کا محافظ بنایا گیا ہے،پہلا احتمال زیادہ قوی ہے کیونکہ دوسری روایت میں اس کی تصریح ہے کہ بارگاہ الٰہی میں پیشی ہوتی ہے۔(مرقات)۲؎یفیئابنا ہےفیئٌسے بمعنی لوٹنا رجوع کرنا،رب تعالیٰ فرماتاہے:"تَفِیۡٓءَ اِلٰۤی اَمْرِ اللّٰهِ"۔یہضربکا مضارع تثنیہ ہے۔خیال رہے کہ لوگوں کے اعمال جمعہ کے دن حضرات انبیاءکرام بلکہ ماں باپ پر بھی پیش کیے جاتے ہیں،وہ حضرات ہماری نیکیاں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں گناہ دیکھ کر رنجیدہ اس لیے علماء فرماتے ہیں کہ گناہ کرکے اپنے مرے ہوئے ماں باپ کو نہ ستاؤ،حضور صلی الله علیہ وسلم کو دکھ نہ دو اس کا یہ مطلب ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5030